بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کتابوں کے چند نسخے لے کر کئی کسٹمر سے سودا کرنے کے بعد مارکیٹ سے کتابیں خرید کر ان کو دینا

سوال

ہم کتابوں کا کام کرتے ہیں جس وقت کوئی کتاب مارکیٹ میں آتی ہے اور کافی اہمیت کے حا مل ہوتی ہے۔ ہم ان لائن اس کو سیل کرنا چاہتے ہیں ان لائن سیل کرنے کے لیے ہم اس کے ایک دو، چار پانچ نسخے لے لیتے ہیں پھر ان لائن اس کا ایڈ چلاتے ہیں تو ایڈ چلانے پر کسٹمر حضرات ہم سے رابطہ کرتے ہیں تو ہم بتاتے ہیں یہ ریٹ ہے یہ فائنل ہے۔ حالانکہ اس وقت ہمارے پاس صرف چار پانچ نسخے ہوتے ہیں تو پھر جب جتنے کسٹمر ہمارے فائنل ہو جاتے ہیں پھر اس حساب سے مارکیٹ سے نیا مال اٹھا کرکسٹمر کو ڈاک کے ذریعے روانہ کرتے ہیں۔ اس صورت کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعاً ضروری ہے کہ خریدو فروخت کرتے وقت مبیع(جو چیز فروخت کی جارہی ہو) بیچنے والے کی ملکیت میں ہو،لیکن جو چیز بیچنے والے کی ملکیت ہی میں نہ ہو اسے آگے بیچنا اور اس کی خرید وفروخت کا حتمی معاملہ کرنا جائز نہیں؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں کتابوں کے جتنے نسخے آپ کی ملکیت میں ہوں صرف انہی کی حدتک بیع کا حتمی معاملہ کریں اور اس سے زائد نسخوں کی حتمی بیع ہرگز نہ کریں ۔البتہ اگر آپ بیع کی بجائے کسٹمر کے ساتھ وعدہ بیع کریں ، پھر خود یا اپنے وکیل کے ذریعےکتابیں خرید کر ان پر قبضہ کرنے کے بعد آپ کسٹمر کو فروخت کریں تو ایسا کرنا جائز ہے ۔ نیز اس بات کو بھی اپنے درمیان طے کریں کہ ڈاک خرچہ اور راستہ کا ضمان/ ذمہ داری کس کی ہوگی۔
في فقہ البیوع (1/333)
ویشترط لانعقاد البیع أن یکون المبیع مملوکا للبائع ، فبیع ما لا یملکہ البائع باطل
وفیہ(1/392)
 الشرط السابع المتعلق بالمبیع أن یکون البائع قد قبض المبیع قبضاً حقیقیاً  أو حکمیاً،  وہذا من شرائط الصحۃ، فبیع مالم یقبضہ عقد فاسد شرعاً ولو کان مملوکاً  لہ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس