ہمارے علاقے میں رواج ہے کہ جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو رخصتی کے وقت اس کے والدین اس کو گائے وغیرہ دیتے ہیں ۔ اب جواب طلب بات یہ ہے کہ اس گائے اور آگے اس کی نسل کے بڑھنے کی وجہ سے اس عورت پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں ؟یہ گائے اور اس کی نسل یعنی بچے وغیرہ بیوی کی ملکیت ہو ں گے یا شوہر کی ملکیت ہو ں گے؟ کیونکہ خرچہ شوہر کرتا ہے ،اور لوگ کہتے ہیں شوہر کی ملکیت ہوں گے ۔شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
عموماً شادی بیاہ کے موقع پر لڑکی کو اس کے والدین کی طرف سے جو سامان وغیرہ دیا جاتا ہے، وہ دراصل والدین کی طرف سے اپنی بچی کو ہبہ (گفٹ ) ہو تا ہے اور وہی اس کی مالک ہوتی ہے ۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لڑکی کو والدین کی طرف سے شادی کے موقع پر ملنے والی گائے اور اس سےآئندہ پیدا ہونے والی نسل لڑکی کی ملکیت ہے ،اور شوہر اس گائے پر معاملات طے کیے بغیر جو اخراجات وغیرہ کرتا رہا ہے وہ اس کی طرف سے تبرع(احسان ) ہیں،اس لیے مذکورہ گائے اور اس کی نسل میں شرعاً شوہر کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ وہ اس کے مطالبہ کا حق رکھتا ہے۔
درر الحكام (2/ 218)د ار إحياء الكتب
(وتتم) عطف على تصح (بالقبض) قال الإمام حميد الدين ركن الهبة الإيجاب في حق الواهب؛ لأنه تبرع فيتم من جهة المتبرع أما في حق الموهوب له فلا يتم إلا بالقبول ثم لا ينفذ ملكه فيه إلا بالقبض (الكامل)
الفتاوى الهندية (5/ 292)
(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة… والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك
سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها