بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کی وقف زمین پر دوسری مسجد تعمیر کرنے کا حکم

سوال

گاؤں کی ایک مسجد ہے جس کے نام پر تقریبا دس ایکڑ زمین ہے، اس کی آمدن مسجد میں استعمال ہوتی ہے ، مسجد والے چاہ رہے ہیں کہ اس دس ایکڑ میں سےدس مرلہ جگہ دوسری بستی والوں کو مسجد بنانے کے لیے دے دی جائے، کیا اس کی گنجائش ہے ؟

جواب

مذکورہ جگہ جس مسجد کے لیے وقف ہے اسی کے لیے اس کو باقی رکھنا ضروری ہے ، البتہ اگر اس جگہ کی آمدن مسجد کی فوری اور آئندہ ضروریات سے زائد ہے تو اس کو دوسری مسجد میں صرف کیا جا سکتا ہے ۔ (ماخذہ:کفایت المفتی ۱۰ /۱۸۵)
الفقہ الاسلامی وأدلۃ(10/۷۶۷۲)
وما فضل من حصرالمسجد وزیتہ،ولم یحتج الیہ ،جازأن یجعل فی مسجد أخر،أو یتصدق منہ ولي فقراء جیرانہ وغیرھم ،وکذالک إن فضل شئ من قصبہ أو شئ من انقاضہ
بدائع الصنائع (۸/۳۹۷ )العلمیة
كما إذا جعل أرضه أو داره مسجدا وشرط من منافع ذلك لنفسه شيئا،  وكما لو أعتق عبده وشرط خدمته لنفسه ولأبي يوسف ما روي عن سيدنا عمر – رضي الله عنه – أنه وقف وشرط في وقفه لا جناح على من وليه أن يأكل منه بالمعروف،  وكان يلي أمر وقفه بنفسه، وعن أبي يوسف – رحمه الله – أن الواقف إذا شرط لنفسه بيع الوقف وصرف ثمنه إلى ما هو أفضل منه يجوز؛ لأن شرط البيع شرط لا ينافيه الوقف، ألا ترى أنه يباع باب المسجد إذا خلق، وشجر الوقف إذا يبس (ومنها) أن يجعل آخره بجهة لا تنقطع أبدا عند أبي حنيفة ومحمد، فإن لم يذكر ذلك لم يصح عندهما، وعند أبي يوسف ذكر هذا ليس بشرط بل يصح وإن سمى جهة تنقطع
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس