زید فرضی نام لے کر کہے کہ اگر تم کو مجھ پر یقین نہیں توھند (فرضی نام) سے پوچھ لو، جب کہ دوسرا شخص جو ھند کو اچھا نہیں سمجھتا( کیونکہ وہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھتی )۔ جواب میں کہتا ہے: میں اس بات کو آگ لگا دوں گا( یعنی وہ کسی کام کو نہ کرنے کے لیے یہ تکیہ کلام استعمال کرتا ہے) تو زید طنزاً کہتا ہے: اب رام رام ستے کرو گے ؟ یہ سن کر وہ شخص زید سے پوچھتا ہےتم نے کیا کہا؟ زید دوبارہ کہتا ہے “رام رام ستے ” اس پر وہ شخص زید کو تنبیہ کرتا ہے کہ ایسا کہنا گناہ ہے توبہ کرو۔
شرح الفقه الاكبر
وفى التتمة: من أهان الشريعة أو المسائل التى لا بد منها، كفر
رد المحتار(4/ 224) سعید
قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف