بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

داڑھی کی توہین کرنا کفر ہے یا نہیں

سوال

اگر کسی کو بولا جائے کہ داڑھی کیوں شیو کررہے ہواور وہ جواب میں کہے کہ ہر بال کے نیچے دو شیطان ہوتے ہیں۔اور یہ بھی کہے کہ مجھے داڑھی پسند نہیں۔ کیا یہ کلماتِ کفر ہیں؟

جواب

داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اور مردوں کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، اس کی گستاخی کرنا اور مذاق اڑانا دراصل سنت اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑانا ہے جو کہ کفر ہے۔مذکورہ صورت میں بظاہر اس شخص کا مقصد داڑھی کی توہین کرنا نہیں ۔ بلکہ مشاہدے کے لحاظ سے داڑھی رکھنے والے اشخاص کی برائی مقصود ہے اس لیے کفر تو لازم نہیں آئے گا البتہ یہ الفاظ بہت سنگین ہیں اس لیے احتیاطاً تجدیدِ نکاح و ایمان کرلے۔
مجمع الأنهر(1/ 692) دار إحياء
رجل قال لآخر احلق رأسك وقلم أظفارك فإن هذه سنة فقال لا أفعل وإن كان سنة فهذا كفر لأنه قاله على سبيل الإنكار والرد وكذا في سائر السنن خصوصا في سنة هي معروفة وثبوتها بالتواتر
الدر المختار(6/ 407) سعید
يحرم على الرجل قطع لحيته
شرح الفقه الاكبر
وفى التتمة: من أهان الشريعة أو المسائل التى لا بد منها،  كفر
 رد المحتار(4/ 224) سعید
قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف

احسن الفتاوی(42/1)اشاعت اسلام:

کسی ادنی سے ادنی سنت کو برا سمجھنا یا اس کا مذاق اڑانا در حقیقت اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استہزاء ہے جس کے کفر ہونے میں کچھ شبہ نہیں ۔ جب سنت سے استہزاء کفر ہے  تو داڑھی تو واجب ہے اور شعارِ اسلام ہے ایک مشت سے کم کرنا بالاجماع حرام ہے اس کا مذاق اڑانا بطریق اولی کفر ہے۔ اسے دوبارہ مسلمان کر کے نکاح بھی دوبارہ کیا جائے ۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

27

/

50

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس