مندرجہ ذیل شرک فی الصفات اور اس کی جو اقسام ہیں، ان کا شمار کس شرک میں آتا ہے؟ شرکِ اکبر یا شرکِ اصغر میں؟
شرک فی الصفات: اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات جیسے علم، قدرت، سمع، بصر، حیات، ارادہ وغیرہ میں کسی مخلوق کو شریک ماننا۔شرک فی الصفات کی درج ذیل مشہور اقسام ہیں
شرک فی العلم: کسی کو اللہ کی مانند علمِ غیب والا ماننا۔
شرک فی القدرۃ: کسی کو اللہ کی طرح نفع و نقصان کا مالک سمجھنا۔
شرک فی السمع: کسی کو اللہ کی طرح دور و نزدیک ہر چیز سننے والا ماننا۔
شرک فی البصر: کسی کو اللہ کی طرح ہر چیز دیکھنے والا ماننا۔
شرک فی الحکم: کسی کو اللہ کی طرح حلال و حرام کے فیصلے کرنے والا سمجھنا۔
شرک فی الافعال: اللہ کے افعال جیسے رزق دینا، مارنا، جلانا، زندہ کرنا وغیرہ میں کسی اور کو مؤثرِ حقیقی ماننا۔
مثال: یہ کہنا یا عقیدہ رکھنا کہ فلاں بزرگ نے بارش برسائی، یا فلاں ولی مشکلیں دور کرتا ہے۔ شرک فی العبادہ: اللہ کی مقرر کردہ خاص عبادات کسی اور کے لیے کرنا۔
مثالیں: 1۔غیر اللہ کو سجدہ کرنا 2۔قبروں یا خانقاہوں کا طواف کرنا 3۔پیر، قبر یا بزرگ کے نام کا روزہ رکھنا 4۔غیر اللہ کے لیے مشرکوں والے عقائد کے ساتھ نذر و نیاز دینا۔(البتہ شریعت کے حدود میں رہتے ہوئے انبیاء، اولیاء یا اپنے مسلمان رشتہ داروں کے لیے ایصالِ ثواب کی نیت سے نفلی روزہ یا نفلی خیرات وغیرہ کرنا جائز ہے) شرک فی الحقوق: اللہ کے وہ حقوق جو صرف اسی کے ہیں، کسی اور کو دینا۔ مثالیں: 1۔شریعت سازی کا اختیار کسی اور کو دینا 2۔حلال کو حرام یا حرام کو حلال ماننا، بغیر دلیلِ شرعی
شرک کی دو بڑی قسمیں ہیں:1- شرکِ اکبر ، 2-شرکِ اصغر۔ شرکِ اکبر وہ ہے جو انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے، اورشرکِ اصغر وہ ہے جوانسان کو دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں کرتا لیکن پھر بھی گناہ ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔ جیسے ریا وغیرہ سوال میں ذکر کردہ شرک کی صورتیں شرکِ اکبر میں داخل ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ کسی شخص پر مشرک ہونے کا حکم اس وقت لگاسکتے ہیں جب شرک اتنا واضح ہوکہ اس میں کسی دوسرے احتمال وتاویل کی گنجائش باقی نہ رہے۔
الكشف والبيان عن تفسير القرآن (6/ 203)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: «اتقوا الشرك الأصغر» . قالوا: وما الشرك الأصغر؟قال: «الرياء يوم يجازي الله النّاس بأعمالهم
شرح تفسير ابن كثير – الراجحي (22/ 3)
أن التنديد نوعان: تنديد أكبر، وهو مخرج من الملة، وتنديد أصغر، وهو ما كان وسيلة إلى الشرك الأكبر
أسيس الأحكام (5/ 125)
سادساً : الشرك الأكبر الذي يخرج من الإسلام هو أن يعطي الإنسان حق الألوهية لغير الله جل وعلا فيعتقد فيه القدرة على ما لا يقدر عليه إلا الله كإنزال المطر وإعطاء الولد والنصر على العدو وأن يعتقد فيه سلطاناً غيبياً يطلع به على المغيبات
سابعاً : أما الشرك الأصغر فهو لا يخرج من الإسلام كالرياء العارض في العمل والحلف بغير الله إذا لم يقصد تعظيم المخلوق تعظيماً يساوي تعظيم الله عز وجل أو يزيد عليه وإسناد النعم إلى غير الله كقولهم لولا الكلب لأتانا اللصوص وما أشبه ذلك فهذا الشرك54 الأصغر لا يخرج من الإسلام ولا يوجب الخلود في النار وقد قيل إنه داخل في الوعيد بعدم المغفرة نعوذ بالله من ذلك
شرح سنن أبي داود للعباد (282/ 27)
فإن حد الشرك الأكبر وتفسيره الذي يجمع أنواعه وأفراده أن يصرف العبد نوعاً أو فرداً من أفراد العبادة لغير الله، فكل اعتقاد أو قول أو عمل ثبت أنه مأمور به من الشارع، فصرفه لله وحده توحيد وإيمان وإخلاص، وصرفه لغيره شرك وكفر، فعليك بهذا الضابط للشرك الأكبر الذي لا يشذ عنه شيء، كما أن حد الشرك الأصغر هو: كل وسيلة وذريعة يتطرق منها إلى الشرك الأكبر من الإرادات والأقوال والأفعال التي لم تبلغ رتبة العبادة، فعليك بهذين الضابطين للشرك الأكبر والأصغر، فإنه مما يعينك على فهم الأبواب السابقة واللاحقة من هذا الكتاب، وبه يحصل لك الفرقان بين الأمور التي يكثر اشتباهها والله المستعان
رد المحتار(6/ 425)
اعلم أن إخلاص العبادة لله تعالى واجب والرياء فيها، وهو أن يريد بها غير وجه الله تعالى حرام بالإجماع للنصوص القطعية، وقد سمي – عليه الصلاة والسلام – الرياء: الشرك الأصغر