بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں اور غیر مقلدین کا موقف

سوال

میاں بیوی کا آپس میں لڑائی جھگڑا ہوا اور شوہر نے غصے میں منہ سے تین دفعہ طلاق بول دی، تو کیا شریعت کے مطابق یہ طلاق ہو گئی؟
اہل حدیث کے مطابق کہا گیا ہے کہ منہ سے بولے گئے تین بول طلاق کے ایک طلاق سمجھے جاتی ہے، اور ۹۰ دن کے اندر اس مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ آپ کے مطابق اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن کریم، احادیث مبارکہ، اقوالِ صحابہؓ اور ائمہ اربعہ کے اجماع کی رو سے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے یا الگ الگ مجلس میں تین طلاقیں دے، بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے، دوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں رہتی، البتہ عورت عدت گزارنے کے بعددو گواہوں کی موجودگی میں کسی دوسرے مرد سے شادی کرے پھر جب وہ شخص حقِ زوجیت ادا کر کے اپنی مرضی سے طلاق دے یا دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے تو یہ عورت عدت گزار کر واپس پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔
مذکورہ معاملے میں مسلکِ اہل حدیث کا مؤقف علمی و شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے، نیز نوے دن والی بات کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
سنن أبي داود (2/ 274) المكتبة العصرية
عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم
حاشية ابن عابدين (3/ 233) دار الفكر-بيروت
 قال ابن إسحاق وطاوس وعكرمة لما في مسلم أن ابن عباس قال: «كان الطلاق على عهد رسول الله – صلى الله عليه وسلم – وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم» وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث
الفتاوى الهندية (1/ 473) دار الفكر
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت
الفتاوى الهندية (1/ 355) دار الفكر
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس