حاشیہ کتاب الاختیار لتعلیل المختار
(وینتفع بھا ان کان فقیرا) کغیرہ من الفقراء، ویعطیھا اھله ا ان کانوا فقراء لما مر
درر الحکام فی شرح غرر االاحکام(2/528) رشیدیة
(فینتفع الرافع)بھا (لو فقیرا والا تصدق بھا)علی فقیر(ولو علی اصله )من الاٰباء ولامھات الفقراء(وفرعه)من الاولادواولادھم الفقراء(وعرسه)الفقیرۃ
الدر المختار(4/279) سعيد
(فینتفع) الرافع (بھا لو فقیرا والا تصدق بھا علی فقیر ولو علی اصله وفرعه وعرسه)
فتاویٰ عثمانی(3/133)معارف القرآن
فقہاء حنفیہ کی تصریحات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہےکہ جو ملک خبیث واجب التصدق ہو وہ مصرف کے لحاظ سے من کل الوجوہ زکوٰۃ کی طرح نہیں بلکہ متعدد جہات سے زکوٰۃ اور واجب التصدق کے مصرف میں فرق ہے،مثلا یہ بات تمام فقہاء حنفیہ نے کہ مال متصدق اپنی بیوی اور اولاد کو بھی دے سکتا ہےچنانچہ علامہ حموی لکھتے ہیں
لو کان غنیا لم یحل لہ ذلک بل یتصدق علی الفقیر اجنبیا ولو زوجۃ او قریبا ولو اصلا او فرعاکما فی التنویر ۔
فتاوی عثمانی (3/135)معارف القرآن
اس سے بات واضح ہوئی کہ واجب التصدق مال کے مصرف کو من کل الوجوہ زکوٰۃ کے مصرف کے مثل سمجھنا درست نہیں ۔