راقم ایک سرکاری ادارہ میں آفیسر ہے بندہ کےتحت مسجد کے انتظامی معاملات بھی شامل ہیں۔امام مسجد جن کی ڈیوٹی امامت وخطابت ہے جبکہ وہ جمعہ پڑھاتے ہیں نماز نہیں پڑھاتے۔مسجد میں ایک مدرس ہیں جن کی ذمہ دار ی صرف بچوں کو پڑھانا ہے ۔ امام مسجد اس مدرس کو نماز پڑھانے پر مجبور کرتے ہیں خود نماز نہیں پڑھاتے، تومدرس کےلیے کیا نماز پڑھانا ضروری ہے اور امام مسجد جو نمازنہیں پڑھاتے ان کےبارے میں کیاحکم ہے ؟
صورت مسئولہ میں خطیب صاحب کےذمے جب واقعۃً صرف جمعہ پڑھانا نہیں ہےبلکہ جمعہ کے ساتھ ان کی ذمہ داریوں میں دیگر نمازیں پڑھانا بھی شامل اور طے شدہ ہے تو ان پر لازم ہے کہ وہ نمازیں بھی خود پڑھائیں اور بغیر کسی عذر کے کسی اور کو مامور نہ کریں ۔اور مدرس کو اپنی جگہ نمازیں پڑھانے پر مجبور نہ کریں ۔ہاں اگر کبھی کوئی عذر پیش آجائےتو وہ مدرس سے اپنی جگہ نماز پڑھانے کی درخواست کرسکتےہیں اور ایسی عذر ومجبوری کی صورت میں مدرس کو ان کےساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
البحر الرائق (8/7)رشیدیة
(والأجرة لا تملك بالعقد، بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد، سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة اهـ۔
الدر المختار (6/ 69)سعید
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة۔
شرح المجلۃ (1/487) رشیدیة
الاجیر الخاص یستحق الاجرۃ اذا کان فی مدۃ الاجارۃ حاضرا للعمل ولا یشترط عملہ بالفعل. لکن لیس لہ ان یمتنع عن العمل واذا امنتع لایستحق الاجرۃ۔