بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی کا مال اس کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا

سوال

 میری ہمیشرہ کو اس کے سسرال والے طلاق دینا چاہتے ہیں جبکہ شادی کے موقع پر جو دو تولہ سونا حق مہر دیا تھا ان کے شوہر نے ان کی اجازت کے بغیر بیچ دیا۔ دوبارہ وہ مہر ادا نہیں کرنا چاہتے ۔کیا ہمارے لئے ان سے حق مہر کا مطالبہ کرنا درست ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں حق مہر ادا کرنے سے حق مہر ادا ہوچکاتھا اور دو تولے سونا بیوی کی ملکیت میں آگیا تھا۔لہٰذا اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل واقعہ کے مطابق ہے اور شوہر نے واقعۃً بیوی کی اجازت کے بغیر سونا بیچاتھا تو شوہر پر ضمان آئےگا اور شوہر سے مطالبہ کرنا درست ہے۔
رد المحتار (3/ 470) سعيد
لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی
الفتاوى الهندية (4/312) العلمیة
وان غصب مالا مثل لہ فعلیہ قیمۃ یوم الغصب بالاجماع کذا فی السراج الوہاج
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1974)دارلفکر، بیروت
 (” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في ” شعب الإيمان “، والدارقطني في ” المجتبى “۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس