آج سے تین ماہ قبل میرے حقیقی ماموں کا انتقال ہوا وہ لا ولد تھے اس کی کوئی اولاد نہیں تھی مرحوم کے والدین ، دادا، دادی، نانی، چچا، چچا کی نرینہ اولاد، بھائی ، بہن، بھتیجا سب کا انتقال مرحوم سے پہلے ہو چکا تھا غرض ذوی الفروض اور عصبات میں کوئی باقی نہیں بچا۔ مرحوم ماموں کی وفات کے وقت مرحوم کی ایک بیوہ ، تین بھتیجیاں، مجھ سمیت دو بھانجے اور ایک بھانجی حیات تھی، مرحوم نے ترکہ میں ایک سو بیس ایکڑ زمین اور ایک کروڑ اسی لاکھ کا ایک مکان چھوڑا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے مندرجہ بالا ورثاء کو کتنا حصہ ملے گا؟
نیز مرحوم نے اپنی زندگی میں یہ وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میری ملکیت کا نصف مسجد کو دینا۔ لیکن مرحوم کی بھتیجیاں اس پر راضی نہیں کیا مرحوم کی یہ وصیت مرحوم کے نصف مال میں نافذ ہو گی؟
واضح رہے کہ مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ بھی چھوڑا ہے خواہ وہ منقولی ہو یا غیر منقولی مثلاً: زمین، جائیداد، نقد روپیہ، سونا ، چاندی اور گھریلو سازو سامان وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔جس سے سب سے پہلے تین حقوق بالترتیب ادا کیے جائیں گے(۱) تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات ، اگر کسی نے اپنی طرف سے ادا کر دیئے ہیں تو وہ اس کی طرف سے تبرع ہو گا۔ ایسی صورت میں وہ ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے۔ (۲)قرض کی ادائیگی بشمول بیوی کا مہر۔ (۳) ایک تہائی 1/3مال کی حد تک وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے اس سے زیادہ پر نافذ کرنے کے لیے تمام ورثاء کا بالغ ہونا اور ان کی رضا مندی ضروری ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں ایک تہائی مال کی حد تک وصیت نافذ ہوگی اور اس کے بقدر مال مسجد میں دینا ضروری ہے۔
اس کے بعد بقایا کل ترکہ کو ۶۰ حصوں میں تقسیم کر کے ۱۵ حصے مرحوم کی بیوہ کو ، ۱۰ حصے ہر ایک بھتیجی کو، ۶ حصے ہر ایک بھانجے کو اور ۳ حصے بھانجی کو ملیں گے۔