بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا

سوال

بیت الخلا ء میں قبلہ کی طرف صرف منہ کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے یا اس کی طرف پیٹھ کر کے بھی نہیں بیٹھنا چاہیے؟ اور یہ بھی بتا دیں کہ یہ گنا ہ ہے یا نہیں یا بس بیٹھنا نہیں چاہیے یعنی ادب کے خلاف ہے گنا ہ نہیں ہے ۔

جواب

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھنا یا پشت کرکے بیٹھنا مکروہ تحریمی یعنی نا جائز اور گناہ ہے جس سےبچنا ضروری ہے ۔
سنن الترمذي (1/ 8)عشرۃ مبشرۃ
عن أبي أيوب الأنصاري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط ولا بول ولا تستدبروها
البحر الرائق (1/422) رشیدیۃ
 ويكره بجنب المساجد ومصلى العيد وفي المقابر وبين الدواب وفي طرق المسلمين ومستقبل القلبة ومستدبرها ولو في البنيان
الدر المختار (1/608) رشیدیۃ
(كما كره) تحريما (استقبال قبلة واستدبارها) لأجل (بول أو غائط)
تقریرات رافعی  (1/608)رشیدیۃ
قال الرافعی :قولہ : قول المصنف : (کما کرہ إستقبال القبلۃ) قال في الھدایۃ ویکرہ إستقبال القبلۃ بالفرج في بیت الخلاء لأنہ علیہ السلام نھی عن ذٰلک الإستدبار یکرہ في روایۃ لما فیہ من ترک التعظیم
امداد المفتین (2/613 )،جامع الفتاوٰی (3 /128)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس