اگر کسی شخص نے شادی کی اور پھر اس کا انتقال ہو گیا تو کیا اب وہ عورت جو اس کے عقد میں تھی وہ عدت گزار کر میت کے بھائی یا میت کے کسی اور رشتہ دار کے عقد میں آسکتی ہے کہ نہیں؟ یعنی اپنے شوہر کے گھر میں سے ہی وہ دوسرے کسی شخص سے نکاح کر سکتی ہے کہ نہیں ؟ اگر وہ عقد میں آسکتی ہے تو اس کی صورت کیا ہے ؟اگر نہیں آسکتی تو اس کی وجہ کیا ہے؟اس مسئلے کو تفصیلا ًبیان فرمائیں۔
رد المحتار (2/ 199)
والنكاح بعد الموت باق إلى أن تنقضي العدة
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 253)
الحرمة المؤبدة بالسبب: وأما السبب فهو على عشرة اوجه وهي
1 – الرضاع 2 والصهرية۔۔۔ ما يحرم بالصهرية:وأما الصهر فهم أربعة اصناف أحدهم ابو الزوج والجدود من قبل ابويه وان علوا يحرمون على المرأة وتحرم هي عليهم دخل بها أو لم يدخل بها لقوله تعالى {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}۔۔۔۔ والثالث ابناء الزوج وبنو اولاده وان سفلوا يحرمون على امرأته وتحرم هي عليهم دخل بها او لم يدخل لقوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء}