بندہ نے اپنا ذاتی مکان تین افراد کو کرائے پر دیا ہوا ہے ۔جس کا ماہانہ کرایہ” اڑتیس ہزار” وصول کرتا ہے ۔لیکن اب میں اس مکان کے کرایہ کا معاملہ ان کرایہ داروں سے ختم کر کے چوتھے آدمی (شاہ صاحب ) کو ستائیس ہزار کرائے کے حساب سے دو سال کے لیے دینا چاہتا ہوں اور ان سے دو سال کا مکمل کرایہ ایڈوانس وصول کرنا چاہتا ہوں اور واضح رہے کہ بندہ دوسال کے کرائے کے علاوہ پگڑی یا ایڈوانس وغیرہ کی کوئی رقم نہیں لے رہا ۔آیا شریعت کی روشنی میرے لیے اس طرح کرایہ پر دینا درست ہے ؟
مالک مکان کے لیے سیکیورٹی کی رقم بڑھا کر اس کے بدلے کرایہ میں کمی کرنا شرعاً درست نہیں ۔ البتہ اگر آئندہ متعدد مہینوں کا کرایہ پیشگی (ایڈوانس ) وصول کرنے کی وجہ سے کرایہ میں کمی کرلے تو اس کی گنجائش ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے اپنے مملوکہ مکان کو دو سال کے لیے کرایہ پر دے کردو سال کا مکمل کرایہ پیشگی(ایڈوانس ) لینا شرعاً درست ہے ۔نیز شاہ صاحب (مستا جر اول ) کے لیے مذکورہ صورت میں اس مکان کو آگے ستائیس ہزار سے زائد (اڑتیس ہزار )کرائے پر دینا درست ہے۔
مجلة الأحكام العدلية (ص: 89)
(المادة 468) تلزم الأجرة بشرط التعجيل يعني لو شرط كون الأجرة معجلة , يلزم
المستأجر تسليمها إن كان عقد الإجارة واردا على منافع الأعيان أو على العمل ففي الصورة الأولى للآجر أن يمتنع عن تسليم المأجور وفي الصورة الثانية للأجير أن يمتنع عن العمل إلى أن يستوفيا الأجرة وعلى كلتا الصورتين لهما المطالبة بالأجرة نقدا فإن امتنع المستأجر عن الإيفاء فلهما فسخ الإجارة
الدر المختار (6/ 29)
ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا۔
رد المحتار(6/ 29)
(قوله بخلاف الجنس) أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة. (قوله أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط۔
الهداية (3/ 231)
قال: “الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل، أو بالتعجيل من غير شرط، أو باستيفاء المعقود عليه
فقہ البیوع(1/72)معارف القرآن
وجرت العادۃ بأن الثمن المدفوع مقدماً قد یکون أقل من قیمتہ السوقیۃ ،۔۔۔وإنہ ولو کان قرضاً فی الاصطلاح الفقہھی ،فإن المقصود فی الاستجرار لیس إقراضاً ،وإنما مقصود المشتری تفریغ ذمتہ،لئلا یحتاج إلی نقد الثمن کل مرۃ ۔