کالج میں بعض لڑکا لڑکی آپس میں ہی ایجاب وقبول کرکے۔ا ن دلائل کی بنا پر میاں بیوی والا تعلق قائم کرلیتے ہیں ۔ اس کی کیا شرعی حیثیت ہے اور قانونی طورپر اسے چیلنج کیا جاسکتاہےیا نہیں ؟
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے نکاح کے متعلق اس بات کی ترغیب دی ہے کہ نکاح اعلانیہ طور پر کیا جائےاور مناسب تشہیر ہو۔ لڑکے اور لڑکی کے اولیاء موجود ہوں خصوصاً لڑکی کی طرف سے ولی موجود ہو کیونکہ بعض صورتوں میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
اسی طرح نکاح کے موقع پر بطور گواہ دو مردوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کا موجود ہونا اور ایجاب وقبول کو سننا نکاح منعقد ہونے کےلیے بنیادی شرط ہےاس کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ لہذا صورت مسئولہ میں گواہوں کی موجودگی کے بغیر محض لڑکے اور لڑکی کے ایجاب وقبول کرلینے سے نکاح نہیں ہوا۔ اور ان کیلئے میاں بیوی والا تعلق قائم کرنا جائز نہیں۔
نیز آج کل خفیہ طور پر لڑکیوں کا والدین کی رضامندی اور اجازت کے بغیر آزادانہ شادی کرلینے کا رواج نہایت معاشرتی بگاڑ ہے جس کے نتیجے میں پورا خاندانی نظام متاثر ہونا،اور حقوق کی پامالی طلاق کی کثرت جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ لہٰذا اس طرح خفیہ شادیوں کی شرعاحوصلہ شکنی لازم ہے۔
الدر المختار (3/ 8)سعید
ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول
رد المحتار (3/ 8)سعید
(قوله: بعاقد رشيد وشهود عدول) فلا ينبغي أن يعقد مع المرأة بلا أحد من عصبتها، ولا مع عصبة فاسق، ولا عند شهود غير عدول خروجا من خلاف الإمام الشافعي
الدر المختار (3/ 21)سعید
(وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (و) شرط (حضور) شاهدين۔(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف
رد المحتار على الدر المختار (3/ 21)
(قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد۔۔
البحر الرائق (3/ 39) رشیدیة
والثاني أعني الشرط الخاص للانعقاد سماع اثنين بوصف خاص للإيجاب۔۔۔وركنه الإيجاب والقبول حقيقة أو حكما كاللفظ القائم مقامهما من متولي الطرفين شرعا
الفتاوى الهندية (1/ 267)
(ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع وشرط في الشاهد أربعة أمور: الحرية والعقل والبلوغ والإسلام۔۔۔ ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع۔۔۔ ولا يشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين، كذا في الهداية ولا ينعقد بشهادة المرأتين بغير رجل وكذا الخنثيين إذا لم يكن معهما رجل هكذا في فتاوى قاضي خان