ایک کمپنی ہے جس میں اگر کوئی کام وغیرہ کے لیے آتا ہے تو اس میں کام کرنے کی کچھ شرائط ہیں۔ جن میں سے ایک یہ کہ :ورکر ایک سال تک کام نہیں چھوڑ سکتا اور اس بات پرایگریمنٹ کرتے ہوئے کمپنی قرآن مجید پر ہاتھ رکھوا کراس شخص سے حلف بھی لیتی ہے ۔اب وہ بندہ ایک ہفتے کے بعد کمپنی آنا چھوڑ دیتا ہے یعنی ٹال مٹول کرتا ہے کہ آج آؤں گا ،کل آؤں گا ۔ مذکورہ کمپنی والے اس کو نکال دیتے ہیں۔جواب طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ شخص نے جو حلف اٹھایا ہے اس کا اعتبار ہے یا نہیں اور اس کا کوئی کفارہ ادا کرنا ہے یا نہیں ؟
کمپنی نے ایگریمنٹ میں کیا الفاظ درج کیے ہیں؟ قسم کے الفاظ ہیں یا وعدہ کے؟
ایگریمنٹ میں یہ الفاظ تحریر ہوتے ہیں کہ :میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک سال تک کام نہیں چھوڑوں گااور اس ایگریمنٹ کو ورکر(ملازم) پڑھتے ہوئے قرآن پر ہاتھ رکھ کر پڑھتا ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اور سائل سے تنقیح کے بعد معلوم ہوا کہ کمپنی کے معاہدہ (ایگریمنٹ) میں جو الفاظ درج ہیں وہ صراحتاً وعدہ کے الفاظ ہیں، حلف (قسم ) کے نہیں، نیز قرآن پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کرنا وعدہ کی تاکید کے لیے ہے، اس سے بھی کوئی قسم نہیں ہوتی ۔
لہذا مذکورہ ملازم کو چاہیے کہ ٹال مٹول سے گریز کرے اور وعدہ کے مطابق سال مکمل ہونے سے پہلے کمپنی نہ چھوڑے ۔بلا عذر وعدہ خلافی کرنے کی صورت میں وہ (ملازم ) گناہ گار ہوگا ۔نیز قرآن پر ہاتھ رکھ کر وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرنا مسلمان کی شایانِ شان نہیں لہذا اس سے اجتناب کیا جائے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ
{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} [المائدة: 1]
أحكام القرآن للجصاص (3/ 284) دار إحياء التراث
وروي عن جابر في قوله{ أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} قال هي عقدة النكاح والبيع والحلف والعهد
مسند أحمد (19/ 376) مؤسسة الرسالة
عن أنس بن مالك قال: ما خطبنا نبي الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: ” لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له
صحيح البخاري (1/ 16) دار طوق النجاة
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان “
الفتاوى الهندية (2/ 51)
(وأما ركن اليمين بالله) فذكر اسم الله، أو صفته، وأما ركن اليمين بغيره فذكر شرط صالح، وجزاء صالح كذا في الكافي
فتاویٰ محمودیۃ(14/42)فاروقیۃ
محض قرآن مجید ہاتھ میں لے کر بات کرنے سے قسم نہیں ہو جاتی جب تک لفظِ قسم نہ کہے۔