بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چار بیٹوں اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

سوال

عرض گزارش ہے کہ میں راشد حسین قریشی آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری اصلاح فرمائیں ۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا3 مئی2020 ءکو ۔ ہمارے والد صاحب نے وفات سے ایک دن پہلے تین بیٹوں ،دو پوتوں ، ایک پوتی اور بہو کےسامنے بتایا کہ چھوٹی بیٹی شبنم ندیم کے پاس چھ لاکھ ستر ہزار کی رقم پرائز بانڈ کی شکل میں موجود ہے اور ڈھائی لاکھ کی رقم اس نے اُدھار لی ہوئی ہے۔ 15مئی کو وہ 50 ہزار روپے دینے آئے گی اور 15 تاریخ کو قرعہ اندازی دیکھ کر 17 تاریخ کو تمام رقم اس سے منگوا لینا ۔ بڑے بہنوئی شمیم قریشی نے بھی ابا جان سے ڈیڑھ لاکھ کی رقم اُدھار لی ہوئی تھی اس رقم میں سے بہنوئی صاحب ابا جان کو 50 ہزار واپس کر چکے تھے بقیہ ایک لاکھ کی رقم ابا جان اُن کو معاف کر چکے تھے ۔ بڑے بہنوئی کی یہ ساری بات ابا جان نے سب کے سامنے بتائی تھی اور ابا جان کی اس بات پر ہم سب گواہ ہیں۔ اگلے دن ہی ابا جان کا انتقال ہو گیا ۔ اباجان نے شبنم ندیم کے پاس کمیٹی ڈالی ہوئی تھی جو کہ کمیٹی ستمبر 20 20 ءکو نکلنی تھی ۔جب شبنم ندیم گھر آئی تو اس سے کمیٹی کے بارے میں پوچھا کہ اب کمیٹی کس طرح چلانی ہے تو اس نے کہا کہ ابا جان کے کل 70 ہزار کی رقم آئی ہوئی ہے ۔ وہی سے بہن بھائی میں بات ہوئی ۔ وہ اس بات سے انکاری تھی کہ میں کوئی رقم نہیں دوں گی ۔ اور وہ ابا جان کی وفات کے بعد یہ کہہ رہی ہے کہ میں ڈھائی لاکھ کی رقم جو ابا سے اُدھار لیے ہوئے تھے میں معاف کروا چکی ہوں ۔ لیکن اس کی اس بات کا کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے ۔ اگر وہ رقم معاف کروا چکی ہوتی تو ابا جان نے جب بڑے بہنوئی کابتا یا تھا تو شبنم کا بھی بتا سکتے تھے لیکن ابا جان کی وفات سے ایک دن پہلے ساری باتیں جو اوپر عبارت میں لکھی ہیں وہ باتیں سب کے سامنے بتا دی تھی۔ جبکہ ابا جان کی وفات سے ایک دن پہلے وہ خود ابا سے یہ کہہ رہی تھی کہ آپ کے پچھلے پیسے ابھی تک واپس نہیں کیے اور یہ بات ریکاڈنگ میں موجود ہے ثبوت کے طور پر ۔ شبنم ندیم جو تحریر لکھ کر آپ کے پاس لائی ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس تحریر میں لکھی ہوئی کسی بات کا کوئی گواہ موجود نہیں ہے ۔
شبنم ندیم کے پاس کل رقم 9 لاکھ 90 ہزار ہے ۔ ارشد قریشی کے پاس 2 لاکھ 40 ہزار کے پرائز بانڈ اور نقد 40 ہزار ہے۔راشد قریشی کے پاس 70 ہزار نقد ہیں ۔
دونوں بھائیوں نے ابا کی وصیت کے مطابق ان کی رقم سے ابا جان کی وفات والے دن کا سارا خرچ اور اگلے دن کی قرآن خوانی کا خرچ کیا ہے اب جو رقم باقی بچی ہے ۔ لہذا آپ سے التماس ہے کہ جو رقم میرے پاس اور میرے دوسرے بھائی ارشد قریشی کے پاس اور جورقم شبنم ندیم کے پاس موجود ہے وہ کس طریقے سے ورثاءمیں تقسیم ہوگی رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ (شبنم ندیم نے جو درخواست دی تھی اس کی فوٹو کاپی ساتھ لف ہے)
اباجان نے جو ہم تینوں بہن بھائیوں کے پاس رقم رکھوائی تھی وہ ایک امانت کے طور پر رکھوائی تھی ۔ اباجان نے ہم تینوں کو اس کا مالک نہیں بنایا تھا ۔ اور ہم اُن کی رقم اپنی اہم ضرورت کے لیے بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے ۔ اگر کسی کو بھی ضرورت ہوتی تھی تو وہ اُن سے اُدھار کے طور پر لیتے تھے پھر اُن کے ہاتھ ہی واپس کر دیتے تھے ۔ اور رقم واپس کرتے وقت کسی نہ کسی کو گواہ بنا لیتے تھے تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو ۔ لیکن شبنم ندیم نے جو رقم اباجان سے 3 لا کھ اُدھار لیےتھےاُس رقم کی واپسی یا معافی کا کوئی گواہ نہیں ہے جس پر ابا جان نے بتایا کہ 50ہزار وہ واپس کر چکی ہے بقیہ ڈھائی لاکھ اس سےلینے ہیں ۔
گواہان : – بیٹے ۔ راشد حسین قریشی ، ارشد حسین قریشی ، خالد حسین قریشی ،بہوزوجہ راشد حسین قریشی پوتے ۔ حافظ حمزہ قریشی ،حافظ مبشر قریشی پوتی ۔ زینب قریشی یہ وہ تمام گواہان ہیں جن کے سامنے ابا جان نے وفات سے ایک دن پہلے باتیں کی تھیں ۔
بعد ازتنقیح
شرعی ورثاء :صرف چار بیٹے دو بیٹیاں

جواب

وراثت کی تقسیم

سوال کا مطالعہ کرنے اور تنقیح کے بعد معلوم ہوا کہ میت کے انتقال کے وقت اس کےشرعی ورثاء میں صرف 4 بیٹے اور 2 بیٹیا ں زندہ تھیں ۔ اگر واقعۃً صورت حال ایسی ہی ہے تو مرحوم کے حلال ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کا متوسط خرچہ ،قرض کی ادئیگی اور ایک تہائی مال کی حد تک جائز وصیت کے نفاذکےبعد کل ترکہ کے دس حصے کردئیے جائیں ۔دوحصے دو بیٹیوں (شہناز شمیم ،شبنم ندیم) کو دیئے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا اور آٹھ حصے چاربیٹوں (شاہد حسین ،راشد حسین، ارشد حسین اورخالد حسین)کو دیئے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیٹے کو دو دو حصے دیئے جائیں گے ۔
نقشہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں

کل ترکہ 1340000 حصے 10

بیٹیاں2 بیٹے 4
2 8
268000 1072000

فی کس بیٹی :134000         فی کس بیٹا :268000

 شبنم ندیم سے رقم کی وصولی کے حوالے سے فریقین کے بیانات مختلف ہیں اس لیے یا تو فریقین ایک سوال پر متفق ہو کر مشترکہ سوال نامہ بھیجیں یا خود دارالافتاء حاضر ہو ں تا کہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے ۔

 واضح رہے کہ پرائز بانڈ میں لگائی جانے والی رقم پر انعام میں ملنے والی رقم سود اور جوے کی وجہ سے حرام ہے لہٰذا   اس کو صدقہ کرنا واجب ہوگا ،وہ شرعاً ترکہ شمار نہیں ہوگا ۔نیز قرآن خوانی پر ہونے والا خرچہ ورثاء  کی اجازت  کے بغیر ترکہ سے کرنا درست نہیں ہے ۔

الفتاوى الهندية (6/ 90)
 ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار
الدر المختار (6/ 200) سعيد
 لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته
رد المحتار (2/ 240) سعيد
ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس