حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ” اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ: أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا ” فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا».
ترجمہ : عبدہ بن سلیمان نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا: ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ (رکوع وسجود سے سر) اٹھائے تو (پھر) تم (بھی سر) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘
اس حدیث کی روسے تو معلوم ہو رہا ہے کہ امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہے تو مقتدی بھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کریں گے اور کیا قائم مقتدی قاعد امام کی اقتداء کر سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ معذور امام کے پیچھے مقتدی کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھیں گے ۔سوال میں ذکر کردہ حدیث پاک اگرچہ صحیح ہے لیکن اس کے برعکس صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم )میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور حدیث مروی ہے جس میں آپﷺ نے قاعداً(بیٹھ کر) نماز پڑھائی او ر مقتدی (حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی (کتاب الصلوۃ :باب اذا زار قوما فامھم)
امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف میں یہ صراحت فرمائی ہے کہ یہ عمل آپﷺ کے آخری زمانہ کا تھا اور فقہاء احناف رحمہم اللہ نے بھی اس حدیث کو آپ ﷺ کا آخری عمل قرار دیتے ہوئے اسی کے مطابق عمل کرنے کا فتویٰ دیا ہے اور سوال میں ذکر کردہ حدیث میں مذکور حکم کو اس آخری عمل سے منسوخ قرار دیا ہے ۔لہذا اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا اور امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تندرست مقتدی کے لیے اس امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ضروری ہے۔
صحيح البخاري (1/ 138) (کتاب الاذان،باب: إنما جعل الإمام ليؤتم به)
عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، قال: دخلت على عائشة فقلت: ألا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: بلى۔۔۔۔۔ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم وجد من نفسه خفة، فخرج بين رجلين أحدهما العباس لصلاة الظهر وأبو بكر يصلي بالناس، فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر، فأومأ إليه النبي صلى الله عليه وسلم بأن لا يتأخر، قال: أجلساني إلى جنبه، فأجلساه إلى جنب أبي بكر، قال: فجعل أبو بكر يصلي وهو يأتم بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم، والناس بصلاة أبي بكر، والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد۔
صحيح البخاری(کتاب الاذان،باب: إنما جعل الإمام ليؤتم به)
قال أبو عبد الله: قال الحميدي: قوله: «إذا صلى جالسا فصلوا جلوسا» فھو في مرضه القديم، ثم صلى بعد ذلك النبي صلى الله عليه وسلم جالسا، والناس خلفه قياما، لم يأمرهم بالقعود، وإنما يؤخذ بالآخر فالآخر من فعل النبي صلى الله عليه وسلم۔
الدر المختار (1/ 588)سعید
(وقائم بقاعد) يركع ويسجد؛ «لأنه – صلى الله عليه وسلم – صلى آخر صلاته قاعدا وهم قيام وأبو بكر يبلغهم تكبيره» ۔
غنیۃ المستملی (۴۸۳)مطبع مجتبا ئی،دہلی
اما قولہ ﷺ إذا صلی جالسا فصلوا جلوسا ونحوہ فھو منسوخ بحدیث عائشۃ رضی اللہ عنھا ھذا ،فإنہ آخر العھدﷺقالہ البخاری۔