بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وقف کے باب میں اولاد در اولاد میں بیٹیوں کی اولاد سے متعلق فتوی

سوال

وقف کے باب میں اولاد در اولاد میں بیٹیوں کی اولادکا داخل ہونے سے متعلق دار الافتاء الاحسان سے جاری شدہ فتوی نمبر(8/93)پر نظر ثانی اور بیٹیوں کی اولاد کا اس میں داخل نہ ہونے کے کچھ توجیہات۔

جواب

بیٹیوں کی اولاد

دار الافتاء جامعہ احسان القران والعلوم النبویہ سے 21 جنوری 2020ء کو وقف علی الاولاد سے متعلق جاری شدہ فتوی نمبر(8/93) پر نظر ثانی کے حوالے سے آپ کی طرف سے موصول ہونے والی تفصیلی تحریر میں آپ نے اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ واقف نے وقف نامہ میں چونکہ یہ لکھا ہے کہ: “یہ وقف میرے اور میرے خاندان کے انتظام کے لیے ہے” لہذا ورثاء سے مراد صرف وہ اولاد ہونی چاہئے جس کو خاندان کا حصہ سمجھا جائے، اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے آپ نے مزید کچھ شواہد بھی ذکر کیے ہیں، آپ کے اس سوال پر طویل غور و فکر اور تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وقف نامہ میں اولاد اور اولاد کی اولاد سے مراد صرف وہ اولاد نہیں جو عرفاً خاندان کا حصہ ہو بلکہ بیٹیوں کی وہ اولاد جس کو خاندان کا حصہ عرف میں نہیں سمجھا جاتا وہ اولاد بھی بجملہ وجوہ اس میں شامل ہے۔
نمبر ۱۔ واقف نے خود تصریح کی ہے “جو حصص میں نے اپنی اولاد و عیال کے لیے مقرر کیے ہیں وہ علی الدوام ان کی زندگیوں تک ان کو ملتے رہیں گے اور ان میں سے کسی ایک کے فوت ہو جانے کے بعد اس کا حصہ اس کے شرعی ورثا پر شریعت اسلامی کے مقرر کردہ حصص پر نسلاً بعد نسل تقسیم ہوتا رہے گا” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقف نے کسی بھی اصل مستحقِ وقف کے فوت ہونے کے بعد اس کا حصہ اس کی اولاد کا حق قرار دیا ہے، صرف اس کے بیٹوں کو حق دار نہیں ٹھہرایا۔واضح رہے کہ وقف نامہ میں استعمال کئے جانے والے الفاظ”ورثاء،عیال” وغیرہ سے مراد اولادہی ہے جس کی تفصیل دار الافتاء دار العلوم کراچی سے جاری شدہ فتویٰ(1718/34) میں موجود ہے۔
نمبر۲۔ اولاد کا اطلاق شرعاً ولغۃً و عرفاً مذکرو مونث دونوں پر ہوتا ہے۔ نیز بیٹی کی اولاد کو بھی اولاد ہی کہا جاتا ہے، اس کو واقف کی اولاد کی اولاد سے نہیں نکالا جا سکتا۔ اور بیٹی کی اولاد کو عرف میں خاندان کا حصہ نہ سمجھے جانے سے اولاد کی نفی نہیں ہوتی اس لیے کہ بیٹی کی اولاد کی وقف کے مستحقین میں شمولیت لفظ اولاد کے مصداق میں داخل ہونے کی وجہ سے ہے اگرچہ عرفاً اس کو خاندان کا حصہ نہ بھی سمجھا جائےچنانچہ بعض فقہاء نے اسی علت کی بنیاد پربیٹیوں کی اولاد کو وقف کے باب میں اولاد در اولاد میں شامل کیا ہے۔ نیزیہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بیٹیوں کی اولاد کا واقف کی اولاد در اولاد میں شامل ہوناالگ مسئلہ ہے اورنسب کا ثابت ہونا یا نہ ہونا الگ مسئلہ ہے اس لئے عدم ثبوتِ نسب کی بنیاد پر بیٹیوں کی اولاد کو واقف کی اولاد سے نکالنا درست نہیں ہے۔ لہذا جو فتوی پہلے جاری کیا گیا تھا وہی درست ہے اور اسی کے مطابق بیٹیوں کی اولاد بھی براہ راست مستحقینِ وقف میں شامل ہوگی۔
واضح رہے کہ کسی بھی وقف کے مستحق کے انتقال کے بعد اس کے داماد اور بہو مستحقینِ وقف میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اولاد میں داخل نہیں۔
رد المحتار،كتاب الوقف(4/ 464)سعيد
وإذا كان مثل الإمام الخصاف لم يجد من يقول برواية حرمان أولاد البنات في صورة ولدي وولد ولدي يعلم أن الصورة التي بلفظ الجمع ليس فيها اختلاف رواية قطعا بل دخول أولاد البنات فيها رواية واحدة. فعن هذا قال شيخ مشايخنا السري ابن الشحنة: ينبغي أن تصحح رواية الدخول قطعا لأن فيها نص محمد عن أصحابنا، والمراد بهم أبو حنيفة وأبو يوسف، وقد انضم إلى ذلك أن الناس في هذا الزمان لا يفهمون سوى ذلك ولا يقصدون غيره، وعليه عملهم وعرفهم مع كونه حقيقة اللفظ
درر الحكام شرح غرر الأحكام(2/ 140) دار إحياء الكتب العربية
قال أرضي هذه موقوفة على ولدي وولد ولدي الذكور قال هلال (يدخل فيه الذكور من ولد البنين والبنات) وهو الصحيح؛ لأن اسم الولد كما يتناول أولاد البنين يتناول أولاد البنات لما قال الإمام السرخسي إن ولد الولد اسم لمن ولده ولده وابنة ولده، ومن ولدته ابنته يكون ولد ولده حقيقة
تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 412) موقع وزارة الأوقاف السعودية
 لا يقال إن ما ذكره في السير من دخول أولاد البنات في أولاد الأولاد إنما هو في الأمان فدخلوا للاحتياط بخلاف الوقف لأنا نقول ليست هذه هي العلة بل العلة ما ذكره الإمام السرخسي من تناول اللفظ له حقيقة ولو كانت العلة الاحتياط لدخلوا أيضا في أولادي أعني البطن الأول مع أنهم لا يدخلون فيه كما مر فعلم أن دخولهم لتناول اللفظ لهم حقيقة وإني لأعجب من القول بعدم الدخول فإن الولد أصله من الولادة ويتصف بها كل من الأب والأم ولذلك سيما والدين ولكن حقيقة الولادة إنما هي من الأم فكما يكون الولد ولدا لأبيه كذلك يكون ولدا لأمه بل هي أحق بذلك لما قلنا فأولاد الشخص كل من ولده من ذكر أو أنثى ويدخل فيه ولد ابنه لكونه ينسب إليه وإن لم يكن مولودا له بخلاف ولد بنته لانتفاء الولادة والنسبة دليله قوله تعالى { يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين } فإنه للذكور والإناث من أولاد الصلب وأولاد الابن دون أولاد البنت فإذا كان كل من ولد لرجل أو امرأة يسمى ولده حقيقة ذكرا كان أو أنثى فكذا كل من ولد لهذا الولد يسمى ولدا له كذلك فيدخل في قوله أولاد أولادي كل من أولاد الأبناء وأولاد البنات حقيقة إذ لا شك أن البنت من أولاده فولدها ولد ولده حقيقة
التاج والإكليل (6/  44) دار الفكر
( وتناول الذرية وولد فلان وفلانة أو الذكور والإناث وأولادهم الحفيد ) أما الذرية فقال ابن رشد اختلف الشيوخ في الذرية والنسل فقيل إنهما بمنزلة العقب والولد لا يدخل فيه ولد البنات على مذهب مالك   وقيل إنهم يدخلون فيها
 وفرق ابن العطار فقال النسل كالولد والعقب لا يدخل فيه ولد البنات بخلاف الذرية فتشمل ولد البنات اتفاقا لقوله تعالى { ومن ذريته داود } إلى قوله تعالى { وعيسى } وهو ولد بنت   ابن رشد صحيح في أن ولد بنت الرجل من ذريته وكذا نقول  في نسله وعقبه انتهى
تبيين الحقائق (6/ 230) المطبعة الكبرى الأميرية – بولاق
 وإن تخلل في نسبته إلى الميت أم كان فاسدا فلا يرث إلا على أنه من ذوي الأرحام لأن تخلل الأم في النسبة يقطع النسب إذ النسب إلى الآباء لأن النسب للتعريف والشهرة، وذلك يكون بالمشهور، وهو الذكور دون الإناث
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس