بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نابالغ کو بلوغت کے بعد فسخ نکاح کا اختیار ہوگا یا نہیں

سوال

ہمارےہاں ایک بندےنےاپنی بیٹی کانکاح اپنےنا بالغ بھتیجےسےکردیاجبکہ اس کی بیٹی نابالغ تھی، اب اس کی بیٹی بالغ ہوچکی ہے،اس سےپوچھاگیاتووہ کہتی ہےمیں اس سے شادی نہیں کرناچاہتی،کیایہ شادی برقراررہےگی یاختم ہوجائےگی؟

جواب

نابالغ اولاد کانکاح اگرباپ اوردادانے کسی مذموم مقصدکی خاطرنہ کیاہو، اورباپ داداسوء اختیارکے ساتھ مشہور نہ ہوں (یعنی باپ داداحرص،لالچ،خودغرضی اوربیٹی کےحق میں شفقت نہ کرنےکے اعتبار سےمشہورنہ ہوں،)تویہ نکاح منعقدہوجاتاہے،اس صورت میں اولاد کی بلوغت کےبعداس نکاح کوفسخ کرنےکااختیارنہیں ملتا۔لیکن اگرباپ کاسوءاختیاروالاہوناپہلےسےمعلوم ہو،اوراس نےکسی مذموم مقصدکی خاطرغیرکفو میں نکاح کرادیاتواس صورت میں لڑکی کوبلوغت کےبعدخیارفسخ ملےگا۔ (كذا فى فتاوی رحیمیہ (4/220) دارالاشاعت و فتاوٰی عثمانیہ (2/291) معارف القرآن کراچی)
الدر المختار (4/ 65)رشيدية
(وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا (ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره (أو) زوجها (بغير كفء إن كان الولي) المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا)
رد المحتار(4/ 65)رشيدية
قوله ولزم النكاح) أي بلا توقف على إجازة أحد وبلا ثبوت خيار في تزويج الأب والجد والمولى وكذا الابن على ما يأتى…  والحاصل: أن المانع هو كون الأب مشهورا بسوء الاختيار قبل العقد فإذا لم يكن مشهورا بذلك ثم زوج بنته من فاسق صح وإن تحقق بذلك أنه سيئ الاختيار واشتهر به عند الناس، فلو زوج بنتا أخرى من فاسق لم يصح الثاني لأنه كان مشهورا بسوء الاختيار قبله، بخلاف العقد الأول لعدم وجود المانع قبله، ولو كان المانع مجرد تحقق سوء الاختيار بدون الاشتهار لزم إحالة المسألة أعني قولهم ولزم النكاح ولو بغبن فاحش أو بغير كفء إن كان الولي أبا أو جدا
الفتاوى الهندية (1/ 312)العلمية
وأقرب الأولياء إلى المرأة الابن ثم ابن الابن، وإن سفل ثم الأب ثم الجد أبو الأب، وإن علا، كذا في المحيط. وكل هؤلاء لهم ولاية الإجبار على البنت والذكر في حال صغرهما وحال كبرهما إذا جنا، كذا في البحر الرائق
فتاوى قاضيخان(1/314)رشيدية
وإذابلغ الصغير او الصغیرۃ وقد زوّجھا الأب و الجد  لا خیارلھما  ، ولھما خیار البلوغ فی نکاح غیر الأب والجد عند أبي حنیفۃ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس