ایسے ڈرامے اور فلمیں دیکھنا حرام ہیں جن میں مندرجہ ذیل غیر شرعی امور اور مفاسد پائے جاتے ہوں مثلاً مرد و زن کا اختلاط، غیر محرم عورتوں کی تصاویر، موسیقی اور اسلامی و دینی مقدس شخصیات کا جھوٹا کردار جو کہ ان کی اہانت کا بھی باعث ہو خواہ یہ کتنی ہی نیک نیتی اور جذبہ جہاد پیدا کرنے کی غرض سے بنائی گئی ہوں ان کو دیکھنا نا جائز ہے، البتہ اگر ایسے ڈرامے جن میں مذکورہ باتوں کے ساتھ ساتھ کوئی اور غیر شرعی امربھی نہ ہو تو ان کو دیکھنے کی اجازت اس شرط کے ساتھ ہوگی کہ دیگر فرائض و واجبات میں کوتاہی نہ ہو۔
قال الله تعالى: [لقمان: 6]
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ
[المائدة: 2]
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}
الدر المختار (6/ 349)
قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله – عليه الصلاة والسلام – «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه – عليه الصلاة والسلام – أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه» وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق
مشکاۃ المصابیح (3/ 1355)
«وعن نافع – رحمه الله – قال: كنت مع ابن عمر في طريق، فسمع مزمارا، فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر، ثم قال لي بعد أن بعد: يا نافع! هل تسمع شيئا؟ قلت: لا، فرفع أصبعيه من أذنيه، قال: كنت مع رسول الله فسمع صوت يراع، فصنع مثل ما صنعت. قال نافع: فكنت إذ ذاك صغيرا» . رواه أحمد، وأبو داود