سوال میں ذکر کردہ سکیم کی جو تفصیلات ہمارے سامنے آئی ہیں ان میں سے کچھ شرائط واضح نہیں ہیں مثلاً ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے یہ اصول لکھاگیا ہے کہ وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں بنک کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ بنک کی اس حوالے سے پالیسی کیا ہوگی یہ واضح نہیں ہے اور عموماً کنونشل بنکوں میں اس حوالے سے جو پالیسی رائج ہے وہ غیر شرعی ہے، اس لئے فی الحال مذکورہ سکیم کے تحت قرض لینے سے اجتناب ضروری ہے۔
قال الله تعالى: [البقرة: 275]
{ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا}
المعیار الشرعی( رقم: 19)القرض
4۔أحكام المنفعة المشروطة في القرض
١/٤ :يحرم اشتراط زيادة في القرض للمقرض وهي ربا، سواء أكانت الزيادة في الصفة أم في القدر، وسواء أكانت الزيادة عينا أم منفعة، وسواء أكان اشتراط الزيادة في العقد أم عند تأجيل الوفاء أم خلال الأجل، وسواء أكان الشرط منصوصا عليه أم ملحوظا بالعرف