بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانا

سوال

ایک شخص نے قرآن پر ہاتھ رکھ کے جھوٹی قسم کھائی، اس کا کیا کفارہ ہے؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں تاکہ دینی لحاظ سے درست راہ اپنائی جا سکے۔

جواب

قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے اور حدیث شریف میں جھوٹی قسم کو شرک وغیرہ کے بعد سنگین اور بڑا گناہ کہا گیا ہے اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانا اس گناہ کی سنگینی کو بڑھا دیتا ہے، لہذ ا آپ پر لازم ہے کہ جھوٹی قسم پر استغفار کریں اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں، توبہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ جھوٹی قسم کے نتیجے میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہو تو اس کی تلافی بھی کی جائے ،البتہ جھوٹی قسم کھانےکا کوئی کفارہ متعین نہیں ہے، لیکن اس کے و بال سے بچنے کے لیےاپنی خوشی سے جتنا صدقہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے۔
صحيح البخاري (8/ 137)
حدثنا فراس، قال: سمعت الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس