ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه۔(ردالمختار)
درج بالا حوالہ اور لف حوالہ کے اقتباس کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی خرید تین مقاصد سے ہے ۔منجملہ ان میں ایک مقصد ذخیرہ یاسرمایہ محفوظ کرنے کے لیے زمین خریدنا ۔مثلاً کسی کے پاس سرمایہ ہے وہ زمین خریدتا ہے اس لیے کہ جب زمین مہنگی ہوگی تو بیچ دوں گا۔موجودہ نظام میں مفتیانِ کرام کے ہاں زمین دو قسم کی ہیں۔
نمبر۱۔ذاتی استعمال کے لیے۔
چناچہ انہوں نے کہا کہ جب کسی آدمی نے اپنی بچی کے لیے پلاٹ خریدکررکھا کہ جب وہ بڑی ہوگی تو یہ بیچ کر اسکی شادی کرونگا۔تو اس پر بھی زکوٰۃہےحالانکہ اس پر زکوٰۃ نہیں بنتی اس لیے کہ وہ جمع شدہ ذخیرہ ہے۔جیسا کہ حوالہ بالا میں ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
لہذا مأخذ کی طرف رجوع ہو نا چاہئيے۔حوالہ میں لفظ ہے “قنیة”اسکی تشریح ابن فارس رحمۃاللہ علیہ نے کی ہے ۔”جو چیز تجارت کیلئےنہیں ہے”۔(اذا كانت معدةٍلا للتجارۃ)تجارت اس ميں مقصد نہیں ہے ۔مقصد اس میں کسی وقت کوئی فائده ہو گاتو پھر بیچ دیا جائے گا۔لہٰذا آپ مہربانی فر ماکر اس کا تحریری اورتحقیقی جواب مرحمت فرمائيں ۔جزاك الله خيرا
زمین خریدتے وقت اگر کسی شخص کی اصل نیت آگے فروخت کر کے نفع کمانے کی ہے اور ابھی تک وہ نیت حتمی طور پر باقی ہے تو اس زمین پر زکوۃ ادا کرنا ہوگی اور اگر اصل نیت فروخت کر کے نفع کمانے کی نہیں بلکہ فی الحال اصل مقصد سرمایہ محفوظ کرنا ہے اگرچہ ضمنا یہ نیت بھی ہو کہ نفع مل گیا تو فروخت کر دوں گا وگرنہ زمین رکھی رہے گی، کسی بھی وقت کام ا ٓجائے گی تو اس صورت میں اس زمین پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی لیکن ان دونوں نیتوں میں فرق کرنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے اس لیے اگر حتمی طور پر فرق نہ کر سکے تو احتیاط اسی میں ہے کہ زکوۃ ادا کر دی جائے۔(مأخذه: فتاوی عثمانی شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی41/2:)
الدر المختار (2/ 273)ایچ ایم سعید
إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض. ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه
بدائع الصنائع (2/ 395) دار الكتب العلمية
ثم نية التجارة والإسامة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة والإسامة؛ لأن مجرد النية لا عبرة به في الأحكام لقول النبي – صلى الله عليه وسلم -: «إن الله عفا عن أمتى ما تحدثت به أنفسهم ما لم يتكلموا به أو يفعلوا» ثم نية التجارة قد تكون صريحا وقد تكون دلالة أما الصريح فهو أن ينوي عند عقد التجارة أن يكون المملوك به للتجارة بأن اشترى سلعة ونوى أن تكون للتجارة عند الشراء فتصير للتجارة سواء كان الثمن الذي اشتراها به من الأثمان المطلقة أو من عروض التجارة أو مال البذلة والمهنة أو أجر داره بعرض بنية التجارة فيصير ذلك مال التجارة لوجود صريح نية التجارة مقارنا لعقد التجارة…والنية المقارنة للفعل معتبرة
بدائع الصنائع (2/ 396) دار الكتب العلمية
إنه لا يكون للتجارة أن النية لم تقارن عملا هو تجارة وهي مبادلة المال بالمال فكان الحاصل مجرد النية فلا تعتبر
بدائع الصنائع (2/ 397) دار الكتب العلمية
وأما الدلالة فهي أن يشتري عينا من الأعيان بعرض التجارة، أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض من العروض فيصير للتجارة وإن لم ينو التجارة صريحا؛ لأنه لما اشترى بمال التجارة فالظاهر أنه نوى به التجارة
بدائع الصنائع (2/398) دار الكتب العلمية
وأما إذا اشترى عروضا بالدراهم أو بالدنانير أو بما يكال أو يوزن موصوفا في الذمة فإنها لا تكون للتجارة ما لم ينو التجارة عند الشراء
العين (5/ 217) دار ومكتبة الهلال
قنو: قنا فلان غنما يقنو ويَقْنَى قُنُوّاً وقُنواناً وقُنْياناً. واقْتَنَى يَقْتَنِي اقتناءً، أي: اتخذه لنفسه، لا للبيع. وهذه قِنْيةٌ، واتخذها قِنْيةً: اتخذها للنسل لا للتجارة. وغنم قِنْية، ومال قِنْية وقِنْيان ويقال: غنم قِنْيَةٌ ومال قِنْيَةٌ بغير إضافة، أي: اتخذه لنفسه. ومنه: قَنِيتُ حيائي، أي: لزمته، أَقْنَى قَنىً، أي: استحياء