بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مرتھن کا مرھونہ زمین سے فائدہ اٹھانا

سوال

ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی زمین کسی کو رہن پر دیتے ہیں جس کو عمومی طور پر یہاں بندھے ڈال دینا کہتے ہیں، یعنی کس سے قرض لیا ہو تو اس کو زمین رہن رکھوا دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں زمین فلاں کو قرض کے بدلے بندھے ڈال دی، اور پھر اس زمین سے وہ شخص جس نے قرض دیا ہوتا ہے فائداٹھاتا رہتا ہےجب تک قرض واپس نہ ہو جائے، کیا اس زمین سے اس شخص کا فائدہ حاصل کرنا جائز ہے جس نے قرض دیا ہو یا نہیں؟

جواب

مرتہن (جس کےپاس رہن رکھوائی گئی ہو) کے لیے مرہونہ زمین سے نفع اٹھانا ، ناجائز اور حرام ہے اور سود کے زمرے میں داخل ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
 رد المحتار (5/ 166) دار الفكر-بيروت
إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم
شرح مختصر الطحاوی (۱۴۹/3)
ولا يجوز اجرالرهن، ولا يخرج من يد المرتهن الا بعد قضاءالدين، ولا ينتفع به وذالك لان في اجارته استحقاق يد المرتهن، وفي ذالك ابطال الرهن
اعلاء السنن (14/512)
عن علي امير المومنين مرفوعاً کل قرض جر منفعة فهو ربا
شرح المجله (3/196)
ويكره للمرتهن ان ينتفع بالرهن، وان اذن له الراهن قال في المنح : لانه اذن له في الربا؛ لانه يستوفی دينه كاملا فتبقی له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا امر عظيم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس