صورت مسٔولہ یہ ہےکہ زید اور عائزہ نے نکاح کا فیصلہ کیا اور دونوں عاقل بالغ ہیں اور لڑکی پہلے مطلقہ بھی ہے۔ گویا کہ دوسرا نکاح ہے،نکاح پڑھانے والا عمر ہے۔اور دو گواہ موجود تھے اور عائزہ نے عمر کو جو نکاح پڑھا رہا تھا اسے اپنا وکیل بنادیا نکاح کا۔ اور نکاح کا جو وکیل بنایا تھا وہ تحریر موجود ہے جو کہ لڑکی نے عمر کو خود بھیجی جس میں لکھا تھا کہ “میں فلاں بنت فلاں آپ فلاں بن فلاں کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کرتی ہوں زید کیساتھ نکاح کرنے کیلئے” پھر ہوا یوں کہ عمر نے نکاح پڑھاتے وقت لڑکی کے باپ کا نام غلط لے لیا۔ میر حسین کی جگہ میر حسن کہ دیا ۔ اور لڑکی وہاں خود موجود نہیں تھی تو کیا نکاح ہوگیا؟
واضح رہے کہ لڑکی نے وکیل بناتے وقت عمر کو تحریر لکھ کر دی تھی اور اس میں لڑکی کے والد کا نام ٹھیک تھا۔۔ گویا کہ تحریر پڑھتے ہوئے نکاح کے وقت عمر نے لڑکی کے والد کا نام غلط ادا کردیا۔ نکاح پڑھانے والا عمر لڑکی کو جانتا تھا جبکہ ملاقات نہیں تھی۔ اور جس لڑکے سے نکاح ہورہا تھا اس سے لڑکی کی ملاقات اور جان پہچان دونوں تھی اور اس نکاح کو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اور گواہان بھی لڑکی کو تعارفی حد تک جانتے تھے کہ کون ہے اور کس شہر سے ہے اور کس گاؤں سے تعلق ہے اور کیا جاب کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔مطلب یہ کہ اس غلطی کی وجہ سے لڑکی کی شناخت خلط ملط نہیں ہوئی تھی۔
لڑکی کشمیری ہے۔ لڑکا پٹھان۔ لڑکی جاب کرتی ہے اور ایف اے کیا ہوا ہے۔۔ لڑکا عالم ہے اور ایم ایس کر رہا لڑکا کفو کے لحاظ سے لڑکی سے بہتر ہے۔۔ مالی اور علم کے لحاظ سے،اور یہ نکاح ہوئے سال ہوگیا ہے۔۔ ابھی نکاح کی ویڈیو دیکھی تو پتا چلا کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔۔ سال سے یہی سمجھا جارہا تھا کہ نکاح منعقد ہوچکا ہے۔ لڑکا لڑکی آپس میں چار سال سے بات کررہے تھے۔لڑکی مطلقہ ثیبہ تھی تو اس کیلیے ایسا فیصلہ کرنا آسان تھا۔ تو سال پہلے دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ گھر بتائے بغیر نکاح کرلیتے ہیں تاکہ گناہ سے بچ سکیں۔ لڑکے نے گھر بعد میں بتادیا تھا، لڑکی نے نہیں بتایا تھا۔ دونوں کا پلان یہ تھا دوبارہ گھر والوں کے سامنے تجدید نکاح کرلینگے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی کا والد میر حسین کے نام ہی سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ میر حسن کے نام سے ، توپھر اس صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
الدر المختار (3/ 26)سعيد
(غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح؛ ولو له بنتان أراد تزويج الكبرى فغلط فسماها باسم الصغرى صح للصغرى خانية
رد المحتار (3/ 26)سعيد
(قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافا لابن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقا والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوبا إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها
البحر الرائق (3/ 91)
وفي الخانية لو وكلت امرأة رجلا بأن يزوجها فزوجها وغلط في اسم أبيها لا ينعقد النكاح إذا كانت غائبة
الفتاوى التاتارخانية
وفي الخانية:لو وكلت امرأة رجلا بأن يزوجها فزوجها وغلط في اسم أبيها لا ينعقد النكاح إذا كانت غائبة
رد المحتار (3/ 86)سعيد
ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال: إن الكفاءة في النكاح تكون في … ست لها بيت بديع قد ضبط نسب وإسلام كذلك حرفة … حرية وديانة مال فقط
الاشباء والنظائر مع شرح الحموى(12/2)العلمية
ولوغلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها ولم تكن حاضرة لاينعقد النكاح
قوله:ولم تكن حاصرة الخ, لأنها اذا لم تكن حاضرة تحتاج الى تعيينها و تعريفها بنيبتها الى أبيها. واذا وقع الغلط فى اسم أبيها لم تتعين فلا ينعقد النكاح, واما اذا كانت حاضرة فلا يضر الغلط فى اسم أبيها لتعينها بالإشارة إليها فلا يحتاج إلى التعريف