کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ میسون بنت بحدل کلبی نصرانی تھی یا مسلمان تھی؟ ایک پیر صاحب نصرانی کہتے ہیں اور دوسری طرف ایک طالب علم مولانا اکرام صاحب کہتے ہیں کہ آپ تابعات میں سے ہیں جو پیر صاحب آپ کو نصرانی کہتے ہیں وہ غلط ہے اور ان کو توبہ کرنی چاہیے اور آپ کی مقدس ذات پر بکواس کرنا شیعہ کا طریقہ ہے اور جو توبہ نہ کرے اس کے ساتھ سلام و کلام حرام ہے، اگر مرے تو اس کی نماز جنازہ حرام، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام۔
سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں درست کون کہتا ہے پیر صاحب یا مولانا صاحب ؟ اس بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں کہ اگر پیر صاحب درست کہتے ہے تو مولانا کا کیا حکم ہے؟ اور اگر مولانا صاحب درست کہتے ہے تو پیر صاحب کا کیا حکم ہے؟ اور پیر صاحب کی لوگوں کو بیعت کرنا اور لوگوں کا بیعت ہونا کیا شرع میں درست ہے یا نہیں؟
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ “میسون بنت بحدل کلبی” مسلمان تھیں۔ علامہ زبیدی نے”تاج العروس “میں صغانی کے حوالے سے تابعیہ کہا ہے اور ” تاریخ دمشق” میں ان سے روایات بھی مروی ہیں۔حضرت میسون کا تعلق عرب قبیلے” بنو کلب” سے تھا جس کے اکثر لوگ زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے،اس بنیاد پر بعض مستشرق(غیر مسلم) مؤرخین نے ان کے اسلام کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے ، تاہم یہ وجہ حقائق کے خلاف ہے۔صحابہ کرام میں کئی حضرات”بنو کلب” سے تعلق رکھتے تھے، مثلاً: حضرت زید بن حارثہ، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہم وغیرہم ۔ چوں کہ”میسون بنت بحدل” کو عیسائی سمجھنے کی وجہ کمزور اور مشکوک ہے ، اس لیے سوال میں مذکور جن صاحب کے حوالے سے یہ مؤقف نقل کیا گیا ہے، اگر انہوں نے ایسا ہی کہا ہے تو ان کا خیال درست نہیں ہے۔