شریعت کے مطابق معلوم کرنے والی بات:۔
نمبر۱۔وراثتی حصوں کی تقسیم کا حساب۔
نمبر۲۔اپنی محنت کی کمائی سے اپنا ذاتی اثاثہ کی تقسیم کا حساب۔
تفصیل:۔ فوت ہونے والے شخص کا نام: طارق محمود
وارث:۔ ( ۱) بیوہ (۲) ایک بیٹی (۳) والدہ (۴) دو سگی بہنیں (۵) ایک سگا بھائی (۶) ایک ماں شریک بھائی
فوت ہونے والے شخص (طارق محمود) کے اثاثہ کی تفصیل
کچھ ایکڑ وراثتی زمین طارق محمود کو باپ سے وراثت میں ملی ۔
جو اثاثہ طارق محمود نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنے لیے خریدا۔ وہ یہ ہے: ایک گھر(۱۵ مرلہ) ، ایک پلاٹ(۱۸ مرلہ) ، یاد رہے کہ فوت ہونے والے شخص (طارق محمود) کا کوئی بیٹا نہیں ، اولاد میں صرف اور صرف ایک بیٹی ہے۔ شریعت کے مطابق درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں
نمبر۱۔سوتیلے بھائی کو وراثتی اثاثہ میں سے کتنا حصہ جاتا ہے؟ نمبر۲۔جو اثاثہ فوت ہونے والے شخص (طارق محمود) نے اپنی محنت کی کمائی سے اپنی ذات کے لیے خریدا۔ اس میں سے سوتیلے بھائی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ اور اگر بنتا ہے تو کتنا؟ نمبر۳۔سگے بھائی اور سگی بہنوں کو وراثتی اثاثہ میں سے کتنا حصہ جاتا ہے؟ نمبر۴۔جو اثاثہ فوت ہونے والے شخص (طارق محمود) نے اپنی محنت کی کمائی سے خریدا۔ اس میں سے سگے بھائی اور سگی بہنوں کا حصہ بنتا ہےیا نہیں؟ اور اگر بنتا ہے تو کتنا بنتا ہے؟
نمبر(۱-۴) صورتِ مسئولہ میں مرحوم طارق محمود کے حقوقِ متقدمہ علی المیراث یعنی کفن دفن کا متوسط خرچہ، مرحوم کے ذمے قرض بشمول مہر کی ادائیگی (اگر ہو)، اور ایک تہائی مال کی حد تک جائز وصیت پوری کرنے کے بعد (اگر کی ہو)، باقی کل حلال ترکہ”خواہ محمود کو باپ کی وراثت سے ملا ہو یا اپنی ذاتی کمائی کا ہو” کو 96 حصوں میں تقسیم کر کے 12 حصے مرحوم کی بیوہ کو، ۴۸ حصے مرحوم کی بیٹی کو، ۱۶ حصے مرحوم کی والدہ کو، ۵،۵ حصے مرحوم کی ہربہن کو،اور ۱۰ حصے مرحوم کے سگے بھائی کو دیدئیے جائیں۔ البتہ ماں شریک بھائی بیٹی کی وجہ سے محروم ہوگا اسے مرحوم کے ترکہ سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ جس کا نقشہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔