نمبر(1)۔اگر ایک عورت جس کی ماہواری ایک سال پہلے ختم ہوگئی ہو اور تین ماہ پہلے خاوند کا گھر چھوڑ چکی ہو، اس کو اس کا خاوند گھر چھوڑنے کے ایک ماہ بعد طلاق دے اور تین طلاقیں تین مہنوں میں پوری کی جائیں تو اس عورت کےلئے شریعت میں عدت کا کیا حکم ہے؟
نمبر(2)۔مزید براں اگر اس عورت کےلئے کوئی کورس کرنا نہایت ضروری ہو اور وقت کم ہو تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
بعد از تنقیح:نمبر1- مذکورہ خاتون کی عمر55سال ہے۔
نمبر2-ہنر مندی کا کورس کرنا چاہ رہی ہیں تاکہ اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا سکیں۔ یہ کورس ابھی کرنا اس لیے ضروری ہےکیونکہ ان کے پاس بس 6 ماہ کا وقت ہے، اس کے بعد ان کو باہر کے ملک اپنے ماں باپ کے پاس واپس جانا ہے۔
نمبر (1)۔صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ مذکورہ خاتون کی ماہوری بند ہوچکی ہےتواس کی عدت طلاق کے بعدمکمل تین مہینوں کاگزرجاناہے، لہذا پہلی طلاق کے دن سے تین مہینے پورے کرلینے پر اس کی عدت مکمل ہوجائےگی۔ اور اگر طلاق مہینے کے درمیان میں دی گئی ہے تو طلاق کے وقت سے نوے دن مکمل ہونے پر عدت مکمل ہوجائےگئی۔
نمبر(2)۔ واضح رہے مذکورہ مطلقہ خاتون کے لئے عدت کے دوران شدید مجبوری کی صورت میں صرف دن کے وقت بقدر ضرورت(یعنی اپنے کام کے بقدر) جانے کی اجازت ہوگی اور رات سے پہلے پہلے واپس اپنے گھر پر پہنچناضروری ہوگا۔
قال الله تعالى: [الطلاق:4]
{وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ}
رد المحتار (3/ 536) دار الفكر
قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها. اهـ. وبهذا اندفع قول البحر إن الظاهر من كلامهم جواز خروج المعتدة عن وفاة نهارا ولو كان عندها نفقة، وإلا لقالوا: لا تخرج المعتدة عن طلاق، أو موت إلا لضرورة فإن المطلقة تخرج للضرورة ليلا، أو نهارا
رد المحتار (3/ 509)سعيد
في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلية وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين
البحر الرائق (4/ 165) دار الكتاب الإسلامي
(قوله ولا تخرج معتدة الطلاق) لقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] أي: لا تخرجوا المعتدات من المساكن التي كنتم تسكنون فيها قبل الطلاق، فإن كانت المساكن عارية فارتجعت من الساكن كان على الأزواج أن يعينوا مساكن أخرى بطريق الشراء أو الكراء وعلى الزوجات أيضا أن لا يخرجن حقا لله تعالى إلا لضرورة ظاهرة، فإن خرجن ليلا أو نهارا كان حراما