بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نان و نفقہ نہ ملنے پربیوی کا عدالت سے خلع کی ڈگری لینا

سوال

میں ہاوس وائف ہوں،میرے تین بچے ہیں، میرا شوہر فراڈ کی کیس میں تین سال سے ملیشیا میں ہے پراپرٹی کے معاملہ میں لوگوں کا پیسہ کھا کر بھاگا ہواہے جوکہ دو کروڑ روپےفراڈ سے لئے ہوئے ہیں، ہر روز پولیس اور پیسے لینے والے لوگ آتے ہیں، ایک سال سے نہ بچوں کی فیس بھیجتاہے اورنہ ہی خرچہ اوردو سال سے مجھ سے کوئی بات نہیں کرتاہے اس لئے میں نے عدالت سے خلع لیاہے، ایک نوٹس بھیجنے پر شوہر نے کوئی رابطہ نہیں کیا، دوسرا نوٹس پر بھی نہیں کیا، اب تیسرا نوٹس بھیجا ہے پھر بھی کوئی رابطہ نہیں کرتا 3F.I,R کاٹے ہوئے ہیں، نادرا سے N.IC بھی بلاک ہے، اسلامی طریقہ پر بھی خلع ہوگئی ہے یا کوئی اور طریقہ بتائیں تاکہ میرے بچے اور میں پولیس اور لوگوں سے محفوظ رہیں اسلامی طور پر خلع ہوگئی ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ نے شوہر کے نان ونفقہ نہ دینے پر عدالت میں دعوی دائر کیا اگر واقعتاً عدالت کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس شوہر کو موصول ہوئے اور وہ یہ نوٹس ملنے کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہوا تو عدالت کی طرف سے تنسیخِ نکاح کا فیصلہ شرعاًمعتبر اور درست ہے۔ اس فیصلے کے دن سے عدت کا آغاز ہوگا، عدت کے بعد آپ دوسری جگہ شادی کرسکتی ہیں۔(فتاوی عثمانی مع حاشیتہ(2/461)معارف القرآن)
المغني لابن قدامة (10/ 97) مكتبة القاهر
فإن امتنع(المدعی  علیہ) من الحضور، أو توارى، فظاهر كلام أحمد، جواز القضاء عليه
حیلہ ناجزۃ،الرواية الثالثة و العشرون (ص : ۱۵۰)دارالاشاعت
“وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف”
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس