دعویٰ خلع اور عدالتی ڈگری لف ہے،اس کی بنیاد پر حکم صادر فرمائیں۔ اب میاں بیوی دونوں کے درمیان نکاح کا کیاحکم ہے؟
دعوی خلع اور عدالتی فیصلہ کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مذکورہ خاتون نےاپنے شوہرکےخلاف مار پیٹ اور گھر سے نکالنے کادعوی دائرکیاتھااورعدالت نےشوہرکو عدالت میں حاضر ہو کر اپنا جواب دینے کےلئے نوٹس بھی بھیجا، اس کے بعد اگر واقعتا شوہر کے علم میں آنے کے باوجود وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا توچونکہ فی الجملہ تنسیخِ نکاح کی بنیاد موجود ہے اس لئے اس کی بنیاد پرعدالت کی جانب سےجاری کردہ تنسیخِ نکاح کا فیصلہ شرعاًمعتبر اور درست ہے اور اب ان کے درمیان نکاح باقی نہیں رہا۔ عدت گزارنے کے بعد وہ کہیں بھی نکاح کرسکتی ہیں۔(فتاوی عثمانی مع حاشیتہ(2/461)معارف القرآن)
المغني لابن قدامة (10/ 97) مكتبة القاهرة
فإن امتنع(المدعی علیہ) من الحضور، أو توارى، فظاهر كلام أحمد، جواز القضاء عليه
حیلہ ناجزۃ،الرواية الثالثة و العشرون (ص : ۱۵۰)دارالاشاعت
“وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف”