ایک شخص نے تقریباً ایک سال قبل اپنی بیوی کو ” طلاقی ہوئی” کہہ کر پکارا جب کہ اس کی نیت قطعاً طلاق کی نہیں تھی اس کے بعد دونوں میاں بیوی زندگی گزارتے رہے۔ سال بعد اس نے پھر یہی الفاظ دو تین مرتبہ استعمال کیے جب کہ اس کی نیت قطعاً طلاق کی نہیں تھی ۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ اس سے طلاق ہو گئی یا نہیں۔ اگر ہوئی تو کتنی طلاقیں ہوئی؟
تنقیح:دونوں صورتوں میں لفظ “طلاقی ہوئی” کہتے وقت آپ کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو پھر کیا نیت تھی؟
جوابِ تنقیح: شوہر کا بیان: میں حلفاً کہتا ہوں کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی بلکہ طلاقی کا لفظ ہمارے عرف میں بطورِ طنز اور سب و شتم کے کہا جاتا ہے اور میری نیت بھی طنز اور سب و شتم کی تھی۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً لفظ “طلاقی ہوئی”کہتے ہوئے آ پ کی نیت طلاق کی نہیں تھی اور مذکورہ الفاظ واقعۃ آپ کے عرف میں گالی کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہو تو پہلی مرتبہ میں دیانتاً ( آپ کے اور اللہ کے درمیان) اور دوسری مرتبہ میں قضاءً بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ تاہم آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
رد المحتار (4/ 349)رشيديه
ومنه أي من الصريح: يا طالق أو يا مطلقة بالتشديد، ولو قال: أردت الشتم لم يصدق قضاء ودين خلاصة، ولو كان لها زوج طلقها قبل فقال: أردت ذلك الطلاق صدق ديانة باتفاق الروايات وقضاء في رواية أبي سليمان، وهو حسن كما في الفتح، وهو الصحيح كما في الخانية. ولو لم يكن لها زوج لا يصدق، وكذا لو كان لها زوج قد مات
المحيط البرهاني (4/ 394)دار أحياء
ولو قال لها: أنت طالق ثم قال لها: يا مطلقة لا تقع أخرى لأنه صادق في مقالته
الفتاوى التاتارخانيه(4/400)فاروقيه
ولو قال لامرأته “يا مطلقة” وفى الولواحية: أو قال “يا طلاق” م: وقع الطلاق عليها، ولو قال “أردت به الشتم” دين فيما بينه و بين الله تعالى ولم يدين فى القضاء. ولو قال “أردت أن أسبها بذلك ولا أريد به الطلاق صدق فيما بينه و بين الله تعالى ولا يصدق فى القضاء ولو قال “أردت طلاق زوج كان لها قبل ذلك” ان لم يكن لها زوج قبل ذلك لا يلتفت الى قوله. وان كان قد طلقطها صدق ديانة باتفاق الروايات و يدين فى القضاء فى رواية أبى سليان