بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مشترکہ کاروبار/دکان سے اپنے گھر یا بچوں کو چیز اٹھا کر دینا

سوال

میرا ایک دکان ہے جس میں دوسرے لوگوں کا پیسہ بھی انوسٹ کیا ہے بطور مضاربت کے،اب اس حوالے مجھے درج ذیل مسائل کے بارے میں راہ نمائی چاہئے
نمبر(1)۔کیا میں دوسرے ملازم کے بجائے اپنے بھائی کو اس میں ملازم رکھ سکتاہوں ؟
نمبر(2)۔جو چیز ردی ہوجائے یا سبزی وغیرہ خراب ہورہےہو تو ایسے چیزوں کو میں اپنے گھر لے جاسکتاہوں؟
نمبر(3)۔دکان پر جب میرے بچے آجاتے ہیں تو میں ان کو کھانے کی کوئی چیز ٹافی وغیرہ دیتاہوں کیا یہ میرے لئے جائز ؟ اگر ان دونوں چیزوں کی وجہ سے میں سال کے آخیر میں جس وقت ہم آپس میں نفع تقسیم کرتے ہیں اس نفع میں اندازے سے کچھ رقم اپنے جیب سے ڈال دوں کیا اس سے یہ جائز ہوجائےگا؟جبکہ ہر ہر چیز کی الگ الگ حساب رکھنا بہت مشکل ہوتاہے؟

جواب

نمبر(1)۔جی ہاں آپ اپنے بھائی کو ملازم رکھ سکتے ہیں۔
نمبر(2،3)۔ جو اشیاء سبزی وغیرہ خراب ہورہی ہوں انہیں آپ مارکیٹ ریٹ پر لے سکتے ہیں، بلاقیمت لینا جائز نہیں، ہاں اگر واقعۃ کوئی چیز بلکل ردی اور بے قیمت ہوجائے کہ اس کی مارکیٹ میں کوئی ویلیو ہی نہ رہے تو اسے آپ بلاقیمت بھی لے سکتے ہیں۔ اسی طرح سرمایہ داروں کی اجازت کے بغیر اپنے بچوں کو دکان میں سے چیزیں (ٹافی وغیرہ )دینا جائز نہیں۔
نیز یہ بھی ذھن نشین فرمائیں کہ سال کے اخیر میں ان اشیا کی قیمت اندازےسے لگانا بھی درست نہیں، بلکہ دکان سے جوبھی چیز لیں اس کا صحیح حساب رکھیں اور پوری پوری رقم ادا کریں۔
 سنن البيهقي الكبرى (6/ 100) دار الحرمين  القاهرة
عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه
بدائع الصنائع(6/ 87) دار الكتب العلمية
(أما) الذي يرجع إلى حال المضارب في عقد المضاربة فهو أن رأس المال قبل أن يشتري المضارب به شيئا أمانة في يده بمنزلة الوديعة؛ لأنه قبضه بإذن المالك لا على وجه البدل والوثيقة، فإذا اشترى به شيئا صار بمنزلة الوكيل بالشراء والبيع؛ لأنه تصرف في مال الغير بأمره، وهو معنى الوكيل فيكون شراؤه على المعروف، وهو أن يكون بمثل قيمته أو بما يتغابن الناس في مثله….وله أن يستأجر من يعمل في المال؛ لأنه من عادة التجار وضرورات التجارة أيضا؛ لأن الإنسان قد لا يتمكن من جميع الأعمال بنفسه فيحتاج إلى الأجير
بدائع الصنائع(5/ 156) دار الكتب العلمية
(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس