بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

پسند کی شادی سے متعلق شریعت کا نقطہ نظر

سوال

پسند کی شادی سے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟ اگر لڑکا پسند کی شادی کرنا چاہتا ہو اور والدین محض اس وجہ سے انکار کریں کہ خاندان کی روایت نہیں ۔تو اس کی بھی تفصیل بتا دیجئے۔

جواب

والدین کامناسب رشتہ سے محض اس وجہ سےانکار کرنا کہ خاندان کی روایت نہیں، یہ عمل درست نہیں ہے۔ البتہ چونکہ نکاح کے ذریعے انسان کی نئی معاشرتی وازدواجی زندگی کی شروعات ہوتی ہے تو ان معاملات میں بہتر یہی ہے کہ والدین جہاں نکاح کرنا چاہیں وہاں بچوں کو بخوشی کرلینا چاہئے۔ کیونکہ والدین اولاد کے مقابلہ میں زیادہ تجربہ کار، حالات سے واقف ہوتے ہیں اور اپنی اولاد کے بارے میں شفیق اوراچھا ہی سوچتے ہیں۔ والدین کی رضامندی کے خلاف نکاح کرنے میں طرح طرح کی پریشانیاں پیش آسکتی ہیں۔
تاہم واضح رہے کہ نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کا آپس میں مل ملاپ رکھنا اور غیر شرعی تعلقات قائم کرنا کسی بھی طور پرہرگز جائز نہیں ہے۔
قال الله تعالى: [البقرة: 232]
{وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ}
تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي (ص: 130) بيروت
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه , أن النبي صلى الله عليه وسلم , قال: ” من حق الولد على الوالد ثلاثة أشياء: أن يحسن اسمه إذا ولد، ويعلمه الكتاب إذا عقل، ويزوجه إذا أدرك “
سنن ابن ماجه (1/  606) دار إحياء الكتب العربية
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تزوج المرأة المرأة، ولا تزوج المرأة نفسها، فإن الزانية هي التي تزوج نفسها»
بدائع الصنائع(2/  248) دار الكتب العلمية
أن ولاية الإنكاح إنما ثبتت للأب على الصغيرة بطريق النيابة عنها شرعا لكون النكاح تصرفا نافعا متضمنا مصلحة الدين والدنيا وحاجتها إليه حالا ومآلا وكونها عاجزة عن إحراز ذلك بنفسها، وكون الأب قادرا عليه وبالبلوغ عن عقل زال العجز حقيقة وقدرت على التصرف في نفسها حقيقة فتزول ولاية الغير عنها وتثبت الولاية لها…
وأما الآية: فالخطاب للأولياء بالإنكاح ليس يدل على أن الولي شرط جواز الإنكاح بل على وفاق العرف والعادة بين الناس فإن النساء لا يتولين النكاح بأنفسهن عادة لما فيه من الحاجة إلى الخروج إلى محافل الرجال وفيه نسبتهن إلى الوقاحة بل الأولياء هم الذين يتولون ذلك عليهن برضاهن فخرج الخطاب بالأمر بالإنكاح مخرج العرف والعادة على الندب والاستحباب دون الحتم والإيجاب
الدر المختار (3 / 55)سعيد
(وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة (فنكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس