بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

لاہور سے گوجرانوالہ تک مسافتِ سفر میں موٹروے اور جی ٹی روڈ کے راستے میں کون سے راستےکا اعتبار ہو گا؟

سوال

میں گوجرانوالہ گیا اور گوجرانوالہ کو دوراستے جاتے ہیں، ایک موٹر وے کا اور دوسرا جی ٹی روڈ کا اگر موٹروے کا راستہ اختیار کریں تو قصر کے لئے مسافتِ شرعی بن جاتی ہے اور اگر جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کریں تو مسافتِ شرعی نہیں بنتی تو میرے لئے گوجرانوالہ میں کیا حکم ہے؟
نمبر1۔آیا میں قصر کروں گا یا اتمام کروں گا ؟
نمبر2۔کیا دونوں راستوں میں سے ہر ایک قصر واتمام کےلیے معتبر ہوگا یا نہیں؟

جواب

نمبر (1،2) ذکر کردہ صورتِ حال میں جس راستے سے سفر اختیار کریں گے اسی راستہ کا اعتبار ہوگا، اگر وہ راستہ اختیار کریں جس میں شرعی مسافت بن جاتاہو تو اپنے شہر کی حدود سے نکل کر قصر کریں گے اور دوسرا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں قصر نہیں کریں گے۔
الفتاوى الهندية (1/ 138) دار الفكر:
وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافرا عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان، وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق. ولو كان في موضع له طريقان أحدهما في الماء وهو يقطع في ثلاثة أيام والثاني في البر وهو يقطع في يومين فإنه إذا ذهب في طريق الماء يقصر وفي البر لا يقصر ولو كان إذا سار في البر وصل في ثلاثة أيام وإذا سار في البحر وصل في يومين قصر في البر ولا يقصر في البحر.
 کفایت المفتی (5/76)ادارۃ الفاروق کراچی:
جس راستے  سے سفر کرے اس کی مسافت کا اعتبار ہے۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس