بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اہل و عیال کے نان نافقہ کا انتظام کیے بغیر تبلیغ پر جانا

سوال

کیا شوہر کا بیوی کو دیور یاسسر کے حوالے کر کے چار مہینے یا ایک سال کے لیے تبلیغ میں نکل جانا شریعت کے مطابق ہے ، کیا یہ عمل بیوی کے حقوق ، حفاظت اور شریعت کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں ، نبی کریم ﷺنے دیور کے ساتھ خلوت کو ” موت ” کیوں قرار دیا کیا تبلیغ کے لیے نکلنے والوں کو بیوی اور بچوں کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا جائز ہے ، جو لوگ تبلیغ کے اس عمل کا موازنہ مزدوری کرنے والوں سے کرتے ہیں ، کیا یہ درست ہے ، کیا شریعت تبلیغ یا مزدوری کے لیے جانے والوں کو پہلے اہل خانہ کے حقوق پورے کرنے کا پابند نہیں کرتی ، یہ سوال صرف اپنے علم کو بڑھانے اور دین کو سمجھنے کے لیے ہے ، کسی کو نشانہ بنانا مقصود نہیں ۔

جواب

واضح رہے کہ دعو ت وتبلیغ میں جانا درست نیت سےمستحب اور ممدوح ہے۔بیوی بچوں کے حقوق (رہائش،تعلیم و تربیت اورنان ونفقہ وغیرہ)واجب اور ضروری ہے۔اس کا انتظام کیے بغیر کسی شخص کے لیے تبلیغ میں جانا جائز نہیں ہے ،حقوق پورے نہ ہونے کی وجہ سے گناہگار ہوگا۔ لہٰذا اس کو چاہیے کہ اپنے علاقے میں ہی رہ کر تبلیغ کا کام کرتا رہے۔
ہاں اگر بیوی بچوں کے حقوق اور نان و نفقہ کا تبلیغ میں دن لگانے کے بقدر انتظام کر رکھاہو، دیور و سسر کے علاوہ کوئی ایسا محرم موجود ہوجس سےکسی بھی فتنے کا خوف نہ ہو اورزیادہ مدت دور رہنے کے لیےبیوی کی دلی رضا مندی بھی ہوتو چار ماہ یا سال کے لیے تبلیغ میں جانا جائز ہے بشرطیکہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کو اپنے بارے میں کسی فتنے میں پڑنے کا ظن غالب اور یقین نہ ہو ۔
 الأحزاب :59
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا.
صحيح البخاري (7/ 37) دار طوق النجاة:
 عن عقبة بن عامر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء» فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: «الحمو الموت».
تعليق مصطفى البغا على صحيح البخاري (7/ 37) دار طوق النجاة:
 (إياكم والدخول على النساء) احذروا من الدخول على النساء غير المحارم ومنع الدخول يستلزم منع الخلوة من باب أولى. (أفرأيت الحمو) أخبرني عن دخول الحمو على المرأة والمراد بالحمو أقارب الزوج من غير المحارم كالأخ والعم والخال وأبنائهم. (الحمو الموت) لقاؤه الهلاك لأن دخوله أخطر من دخول الأجنبي وأقرب إلى وقوع الجريمة لأن الناس يتساهلون بخلطة الرجل بزوجة أخيه والخلوة بها فيدخل بدون نكير فيكون الشر منه أكثر والفتنة به أمكن.
 البقرۃ :  233
وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ.
رد المحتار (3/ 203,202)سعيد:
ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به… ثم قوله وهو أربعة يفيد أن المراد إيلاء الحرة، ويؤيد ذلك أن عمر – رضي الله تعالى عنه – لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها.
الدر المختار (3/ 572)سعيد:
(ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته.
كذا فى البحر الرائق(4/188)
الدر المختار (3/ 612)سعيد:
(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر.
فتاویٰ محمودیہ (4/263،262) دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی، کفایت المفتی (3/82) دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس