بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو(خاندان سے باہر) میں نکاح کرنا

سوال

غیر کفو میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیوں منعقد نہیں ہوتا؟ میں غیر کفو ہوں لڑکی سے دین داری میں بھی کم ہوں تو اگر لڑکی کے ولی ہمارا نکاح کر دیں تو وہ منعقد ہوجائے گا؟
میں نے ایک لڑکی سے کورٹ میرج کی ولی کے بغیر اور میں لڑکی کے کفو کا بھی نہیں ہوں لڑکی پٹھان اور میں پنجابی ہوں۔ دین کے لحاظ سے بھی لڑکی زیادہ دین دار ہے میں کوئی کام نہیں کرتا خرچا اپنے والد سے لیتا ہوں یعنی بیوی کا نفقہ وغیرہ کی ادائیگی پر قادر نہیں تھا نکاح کے وقت۔ یعنی لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کیا تو یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟
پھر لڑکی کے گھر والوں کے کہنے پر طلاق نامہ پر مجھ سے میرے گھر والوں نے جھوٹ بول کر کہ لڑکی والے ہمارے پیچھے ہے ہمیں مارنے آرہے ہیں وہ دوبارہ نکاح کریں گے لڑکی کے والد نے بولا ہے تو مجھ سے دستخط کروایا۔ سب گواہ ہے مجھ سے زبردستی دستخط کروایا۔ میں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں لڑکی کے ولی کی اجازت سے۔ کیا نکاح منعقد ہوا؟ کیا طلاق واقع ہوئی؟ کیا دوبارہ نکاح کر سکتا ہوں؟ مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب دیں۔

جواب

اگر لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعتاً لڑکی نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کیا تو وہ منعقد ہی نہیں ہوا، اور اس صورت میں طلاق کی ضرورت نہیں۔البتہ اگر اب لڑکی کا ولی راضی ہوجاتا ہے تو وہ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
الفتاوى الهندية (1/ 321)العلميه
ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وهو قول أبي يوسف – رحمه الله تعالى – آخرا وقول محمد – رحمه الله تعالى – آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان
الدر المختار (4/ 150) رشيديه
 (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي)… (وله) أي للولي (إذا كان عصبة)… (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد… (ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)
رد المحتار (4/ 419) رشيديه
(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن… بخلاف عدة الفسخ بحرمة مؤبدة كتقبيل ابن الزوج، أو غير مؤبدة كالفسخ بخيار عتق وبلوغ وعدم كفاءة… فلا يقع الطلاق فيها كما حرره في البحر عن الفتح
الدر المختار (4/ 195) رشيديه
 (و) الكفاءة (هي حق الولي لا حقها) فلو نكحت رجلا ولم تعلم فإذا هو عبد لا خيار لها بل للأولياء ولو زوجوها برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا لا خيار لأحد
الفتاوى الهندية (1/ 323)العلميه
وإن كان الأولياء هم الذين باشروا عقد النكاح برضاها ولم يعلموا أنه كفء أو غير كفء فلا خيار لواحد منهما
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس