بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میں نے جب بھی فلانا گناہ کیا تو میں چھ روزے رکھوں گا”کہنے کے بعد محلوف علیہ کے تکرار کی وجہ سے تعدد کفارات کا حکم”

سوال

ایک بندے نے گناہ کے ایک کام سے اپنے آپ کو روکنا چاہا ، اور کہا، کہ میں نے اس کو ” جب بھی” کیا ، تو میں چھے روزے رکھوں گا، پھر وہ کام اس سے بار بارصادر ہوا ، جس کی تعداد کا اندازہ اس کو نہیں،اب وہ کس طرح روزے رکھے، جب کہ اس کو معلوم نہیں کہ میں نے کتنی مرتبہ یہ کام کیا ہے؟
اس بندے پر صرف “چھے” روزے رکھنا لازم ہے یا کفارۃالیمین بھی دے سکتا ہے؟ اور کفارۃالیمین دینے کی صورت میں “مساکین کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا اور عدمِ استطاعت کی صورت میں روزےرکھنا” کیا ان میں سے ہر ایک ادا کر سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایک سے زائد مرتبہ اگروہ اس گناہ کا مرتکب ہوا تو اس شخص پر صرف ایک ہی مرتبہ چھے روزےلازم ہو ں گے اور اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا بھی لازم ہوگا ،ہر ایک گناہ پر الگ سے روزے رکھنا لازم نہ ہوں گے۔
چھے روزے رکھنے کے علاوہ کفارۃالیمین ادا کرنا بھی درست ہے، البتہ چھے روزے رکھنا( یعنی نذر کو پورا کرنا) افضل ہے ۔ اور کفارۃالیمین میں دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانے یا انہیں کپڑے پہنانے کا بھی اختیار ہے اور ان پر عدمِ استطاعت کی صورت میں مسلسل تین دنوں کے روزے رکھنے سے بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔
المائدة ( 5/89)
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
رد المحتار (5/ 505) رشيدية
(قوله وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي
الفتاوى الحامدية (1/ 86) رشيدية
(الجواب) : نعم إذا كان النذر معلقا بشرط لا يريده فهو مخير بين الوفاء بالمنذور أو كفارة اليمين على المذهب كما في التنوير وفي الدرر وبه يفتى وفي البزازية وعليه الفتوى لكثرة البلوى وفي الهداية لأن فيه معنى اليمين وهو المنع وهو بظاهره نذر فيخير ويميل إلى أي الجهتين شاء أي من الوفاء بالنذر أو كفارة اليمين وهذا التفصيل هو الصحيح اهـ ولا يجبر القاضي على ذلك لأنه لا يدخل تحت الحكم كما صرح به في التنوير وغيره والله أعلم
امداد الفتاوی مع حاشیۃ القاسمی ۵/۵۰۹نعمانیہ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس