نمبر 1۔میرا اٹھارہ سال کا بھائی جو کہ کچھ دن قبل کینسر کی بیماری کی وجہ سے شہید ہوگیا،جس سے تقریباً ڈھائی مہینے شدید تکلیف کی بناء پر نمازیں قضاء ہو گئیں، آج کل کے حساب سے فدیہ کتنا ہو گا؟
نمبر2۔کیا والد صاحب اپنے پیسوں سے میت کی طرف سے استحساناً فدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر دے سکتے ہیں تو کیا کسی اور مستحق زکوٰۃ بھائی ( میت کا بھائی اور فدیہ دینے والے کا بیٹا) کو دے سکتا ہے؟
نمبر3۔نیز بھائی مرحوم نے موت سے دس دن قبل ( تقریباً جب زندگی سے مایوس ہو چکا تھا) کل پانچ ہزار (جو کہ اس کا کل سرمایہ تھا) صدقہ کرنے کی وصیت کی، اس کا کیا حکم ہے؟
نمبر1۔نماز کے فدیہ کی مقدار نصف صاع یعنی تقریباً پونے دو کلو گندم یا خالص آٹا یا اس کی قیمت ہےلہذا فدیہ ادا کرتے وقت پونے دو کلو گندم یا آٹے کی موجودہ قیمت معلوم کر کے ادا کریں ۔اور وتر کی نماز چونکہ مستقل ایک نماز ہے اس لیے روزانہ چھ نمازوں کا فدیہ ادا کریں۔
نمبر2۔والد تبرعاً مرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کر سکتا ہے اور فدیہ کی رقم مرحوم کے مستحقِ زکوٰۃ بھائی کو دی جا سکتی ہے۔
نمبر3۔شرعاً وصیت ایک ثلث مال کی حد تک نافذ ہوتی ہے لہذا صورتِ مذکورہ میں اگر اس پر تمام ورثاء راضی ہو تو کل مال کو صدقہ کیا جا سکتا ہے ورنہ ایک تہائی مال کے بقدر صدقہ کر دیا جائے اور بقیہ مال ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کر دیا جائے بشرطیکہ کوئی قرضہ نہ ہو۔
الدر المختار (2/ 643) رشيديه
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر)
رد المحتار(2/ 643) رشيديه
(قوله نصف صاع من بر) أي أو من دقيقه أو سويقه، أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته، وهي أفضل عندنا لإسراعها بسد حاجة الفقير
الفتاوى الهندية (1/ 125)العلميه
إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله… وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة
رد المحتار (2/ 643) رشيديه
وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة
الدر المختار (2/ 333) رشيديه
باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر… (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
رد المحتار (2/ 333) رشيديه
وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني
الفتاوى الهندية (6/ 109) العلميه
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية