بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گروی لینے کی جائز صورت

سوال

بامر مجبوری مکان گروی لینے کی کوئی جائز صورت نکل سکتی ہے؟

جواب

گروی کی مروجہ صورت جس میں مالکِ مکان کو ایڈوانس رقم دینے والا اس مکان میں بلاکسی معاوضہ کے رہائش اختیار کرتاہے بلاشبہ حرام اور سودی معاملہ ہے کیونکہ اس صورت میں ایڈوانس دی جانے والی رقم قرض ہے اور قرض پر نفع حاصل کرنا (خواہ بلا معاوضہ رہائش کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو) سود اور حرام ہے، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ گروی کا معاملہ اختیار کرنے کے بجائے کرایہ داری کا معاملہ کیا جائے جس کی صورت یہ ہوگی کہ طے شدہ مدت تک گھر میں رہائش اختیار کرنے والا کرایہ دار بن جائےاورایڈوانس رقم اس رہائش کے عوض کرایہ کے طور پر ادا کرے اس صورت میں طے شدہ مدت ختم ہونے کے بعد اسے اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا، بلکہ کرایہ دار کے رہائش اختیار کرنے کے عوض مالکِ مکان اس رقم کا مالک بن جائےگا۔
السنن الكبرى للبيهقي (5/  573) دار الكتب العلمية
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا ” موقوف
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس