بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

درزی کا بچا ہوا کپڑا خود استعمال کرنا

سوال

درزی سلائی کےبعدبچاہواکپڑااستعمال کرتاہےکیااس کےلئےیہ جائزہےیانہیں؟

جواب

درزی کےپاس کٹنگ اورسلائی کےلئےجوکپڑےآتےہیں،وہ اس کےپاس امانت ہوتےہیں،وہ ان کپڑوں کامالک نہیں ہوتا؛اس لئےکٹنگ میں جو کپڑابچ جائےاس کی واپسی ضروری ہے،اس سےمالک کی اجازت کےبغیررکھ لینااوراپنے استعمال میں لاناجائزنہیں ہے،البتہ اگرکٹاہواکپڑااتنامعمولی ساہوکہ عام طورپرمالک کودینے کےباوجودوہ چھوڑکرجاتےہوں تووہ آپ کےلئے جائزاور مباح ہوگا۔
مشكوة المصابيح  (ص255)اسلامى كتب خانه
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :ألالاتظلموا ألالايحل مال امرئ الا بطيب نفس منه،رواه البيهقي في شعب الايمان
الفتاوی الھندیۃ(2/308)العلمیۃ
ثم مایجدہ الرجل نوعان:نوع یعلم أن صاحبہ لایطلبہ کالنوی فی مواضع متفرقۃ قشورالرمان فی مواضع متفرقۃ وفی ہذا الوجہ لہ أن یأخذھاوینتفع بھاإلاأن صاحبھاإذاوجدھافی یدہ بعدماجمعھافلہ أن یاخذھاولاتصیرملکاللآخذ
الدر المختار(6/ 64)سعيد
(الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره….ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان) ؛ لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع (وبه يفتى) كما في عامة المعتبرات، وبه جزم أصحاب المتون
الفتاوى الهندية (2/ 167)العلمية
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق
 رد المحتار(5/ 99)سعيد
 لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه….والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم
(فتاوی رحیمیہ(۱۰/۲۳۸)الاشاعت)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس