بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

والد کا بیٹے سے کہنا کہ اگر میں آئندہ تمہاری لائی ہوئی یا تمہاری بیوی کی بنائی ہوئی کوئی چیز کھاؤں تو مجھ پر بیوی طلاق ہے

سوال

میرےاور ابو کے درمیان کسی وجہ سے بحث ہوئی تو ابو نے کہا کہ اگر آئندہ میں تمہاری لائی ہوئی کوئی چیز کھاؤ یا تمہاری بیوی کی بنائی ہوئی کوئی چیز کھاؤ تو مجھ پر بیوی طلاق ہے۔ مذکورہ صورت کا کیا حکم ہے ؟

جواب

ذكر كرده صورت ميں اگر آپ كے والد نے آپ كی لائی ہوئی چیز یا آپ کی بیوی کے ہاتھ سے بنی ہوئی چیز کھائی تو آپ کی والدہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی ، جس کے بعد آپ کے والد عدت کے اندر رجوع کر سکتے ہیں اور عدت گزر جانے کے بعد باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کر سکتے ہیں ،مذکورہ صورت میں ایک طلاق واقع ہو جانے کے بعد رجوع یا نیا نکاح کرنے کی صورت میں تعلیق ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد آپ کی لائی ہوئی چیز یا آپ کی بیوی کی تیار کردہ چیز کھانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

الفتاوى الهندية (1/458)العلمیة

ولو قال لامرأته: أنت طالق ما لم تحيضي أو ما لم تحبلي وهي حائض أو حبلى في حال الحلف فهي طالق حين سكت فإن كان يعني ما هي فيه من الحيض دين فيما بينه وبين الله – تعالى – فأما في الحبل فلا يصدق

البحر الرائق  (4/ 15) دار الكتاب الإسلامي

(قوله ففيها إن وجد الشرط انتهت اليمين) أي في ألفاظ الشرط إن وجد المعلق عليه انحلت اليمين

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس