بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح کرنا

سوال

کسی شخص نے بیوی کی موجودگی میں سالی سے نکاح کرلیا ،رخصتی بھی ہوئی ،نکاح تو باطل ہے لیکن کیا عورت پر عدت لازم ہے ؟اگر لازم ہے تو کتنی ؟اور کیا وہ دوران عدت وہ اپنی بیوی سے جماع کرسکتاہے۔

جواب

مذکورہ صورت میں عدت لازم نہیں ہوگی ۔البتہ سالی سے جدائی کےبعد اس کا ایک حیض گزرنے تک اور حمل کی صورت میں بچے کی ولادت تک اس شخص کےلیے اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں۔
قال الله تعالى
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ ۔۔۔۔۔ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ} [النساء: 23]
فتاویٰ قاضی خان (1/ 319 ) رشیدیة
لو تزوج  امراۃ ثم نکح اختہا جاز نکاح الاولٰی بطل نکاح الثانیة، فان وطی الثانیة لم یطا الاولیٰ حتی تنقضی عدۃ الثانیة
رد المحتار على الدر المختار (3/ 283)
 يعمل بالاحتياط خصوصا في باب الفروج
رد المحتار على الدر المختار (3/ 38)
(و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن۔۔۔۔ولا فيما إذا تزوجهما على التعاقب، وكان نكاح الأولى صحيحا فإن نكاح الثانية والحالة هذه باطل قطع

امدادا لاحکام (2/ 275) دالعلوم کراچی

نکاح باطل وفاسد میں صرف باب عدت میں فرق ہیں کہ باطل موجب عدت نہیں اور فاسد موجب عدت ہے بقیہ احکام میں فرق نہیں۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس