بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ہوٹل کا کچھ حصہ شراب کےلیے دینا جائز نہیں

سوال

یورپ میں ایک شخص نے ریسٹورنٹ کھولا اس میں حلال کھانے ہیں شراب نہیں ہے،لیکن لوگ شراب کا مطالبہ کرتے ہیں اور بعض اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں شراب نہ ہونے کی وجہ سے کسٹمر پریشان ہوتے ہیں بار بار مطالبہ کرتے ہیں ۔ وہ پوچھ رہےہیں کہ کیا ہم ریسٹورنٹ کا ایک کونہ کسی کو شراب کےلیے دے سکتےہیں؟اس میں وہ شراب بیچے گا، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ،اور نہ ہی ہم ان سے کوئی کرایہ لیں گے ۔لیکن اس کی وجہ سے ہمارے کسٹمر کو سہولت ہوگی۔

جواب

شراب فروخت کرنے کےلیے اپنی جگہ بلا معاوضہ دینا بھی آپ کےلیے جائز نہیں اس سے اجتناب ضروری ہے۔
الدر المختار (6/ 392)
(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح) وأما الأمصار وقرى غير الكوفة فلا يمكنون لظهور شعار الإسلام فيها وخص سواد الكوفة، لأن غالب أهلها أهل الذمة (ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي۔
بحوث  فی قضایافقیہ معاصرہ(1/344)م: دارالعلوم کراتشی
لا یجوز للمسلمین ان یحضروا مثل ھذہ المناسبات التی تتعاطی فیہا الخمور والخنازیروتراقص فیہا النساء والرجال ولا ضرورۃ داعیة لذالک الا الحصول علی الجاہ والسمعة ولا ینبغی لمسلم ان یخضع لکل ما یعتریه من اسباب الفسق وخوارم الدیانة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس