کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندے کا اپنی بیوی سے گھریلو ناچاکی کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا۔ بیوی اپنے میکے چلی گئی منانے کی کوشش کے باوجود صلح نہ ہوسکی میری بیوی نے اپنے اور تین بچوں کے خرچے کا کیس دائر کر دیا بندے نے خرچے سے بچنے کے لیے وکیل کیا۔ وکیل نے کہا کہ ایک نوٹس دینا ہوگا جس کی وجہ سے آپ خرچے سے بچ سکیں گے۔ بندے نے کہا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا اور نہ ہی بچوں کو چھوڑنا چاہتا ہوں وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ یہ صرف ایک نوٹ ہے اس سے طلاق نہیں ہو گی یہ صرف آپ کے کیس کو مضبوط کرنے کے لیے ہے وکیل نے تین نوٹس لکھے اور دستخط کرنے کو کہا میں نے یہ سمجھ کر کہ میں طلاق نہیں دے رہا نوٹس پر دستخط کر دیے زبان سے کچھ بھی نہیں کہا اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ اس سے طلاق ہوجاتی ہے تو میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نوٹس پر دستخط نہ کرتا اب بھی میری طرف سے مسلسل صلح کی کوشش جاری ہے۔ بندہ اپنی بیوی کو بسانا چاہتا ہے۔ براہ کرم شریعت کی رو سے مسئلہ کی وضاحت فرمائی جاوے۔
رد المحتار (4/244) دار الفكر
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
الفتاوى الهندية (1/414) دار الفكر
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
الفتاوى التاتارخانية(ِ4/528)فاروقية
الأول: أن يكتب “هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد فأنت طالق” وفى هذا الوجه يقع الطلاق فى الحال, وفى الخانية: وتلزمها العدة من وقت الكتابة. م:وإن قال: لم أعن به الطلاق! لم يصدق فى الحكم؛ ولو قال لها “يا فلانة أنت طالق” ولم يذكر شرطا يقع الطلاق عليها فى الحال, وإذا قال لم أنو الطلاق! لايصدق فى الحكم