ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس کی موت کے وقت مذکورورثاء حیات تھے ۔شوہر ،نابالغ بیٹا ،ماں
مذکورہ عورت کا وفات کے بعد صندوق کھولا گیا تو اس میں دس ہزار روپےنکلے جو اس کے بھائیوں اور والدہ نے مسجد میں صدقہ کر دیئے پھر اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور مذکورہ عورت کے جہیز کا سامان جو اس کے شوہر کے گھر رکھا تھا اس کے بھائیوں نے تیس ہزار میں فروخت کیا اور یہ پیسے بھی مسجد میں عطیہ کر دیئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح میت کے پیسوں کو عطیہ کرنا درست ہے ؟نیز اس بات میں بھی راہنمائی فرمائیں کہ عورت کے شرعی ورثاء میں مندرجہ بالا تمام ترکہ کس طرح تقسیم کیا جائے گا اور فی وارث کتنا حصہ آئے گا روپے کی شکل میں ؟اور مسجد میں دینا ہو تو ا س کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟جواب مرحمت فر ما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔
مرحوم کا مال وجائیداد اس کا ترکہ ہے اور ترکہ مرحوم کے شرعی ورثاء کا حق ہوتا ہے ۔ترکے کے مال کو بالغ ورثاء کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا شرعاً درست نہیں لہٰذا مسئولہ صورت میں مرحومہ کے بھائیوں کا ترکہ صدقہ کرنا درست نہیں ہوا البتہ چونکہ ترکہ کو صدقہ کرنے میں ماں بھی شامل ہے لہٰذا وراثت سے ماں کے حق میں آنے والے حصے کا صدقہ تو درست ہو جائے گا لیکن شوہر کے حصے کاصدقہ اس کی اجازت پر موقو ف رہےگا اورا گرشوہر اجازت دے دے تو اس کے حصے کا صدقہ بھی درست ہو جائے گا اور اگر شوہر کی اجازت نہیں ہے تو شوہر کا حصہ بھائیوں کے ذمے ہوگا اور بچے کےحصے کا صدقہ تو ہر حال میں درست نہیں ہوگا اس کےحصےکی ادائیگی صدقہ کرنے والوں کے ذمے رہےگی ۔ نابالغ بچے کے حصے کی رقم اس کے لیے محفوظ رکھی جائے یا اس کی ضروریات پر صرف کی جائے ۔
سوال سے معلوم ہوا کہ جب زوجہ (بیوی) کا انتقال ہوا تو اس کے ورثاء میں شوہر ،بیٹا اور ماں تھی ۔اگر صورت حال واقعتاً ایسے ہی ہے تو سب سے پہلے مرحومہ زوجہ کے کل ترکہ میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث یعنی قرض اگر ا س کے ذمہ کسی کا ہو اور اگر اس نے وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال کی حد تک اس کی ادئیگی کے بعد بقیہ کل مال کے بارہ حصے کر کے تین حصے شوہر کو ،سات حصے بیٹےکو اور دو حصے ماں کو دئیے جائیں گے ۔ سوال میں دئیےگئےکل ترکہ کو مندرجہ ذیل نقشہ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔