میرا ایک عدد گھر بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ہے ،میں اپنی فیملی کےساتھ رہائش پذیر ہوں ۔ میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور میں او راہلیہ ہیں ۔میری یہ خواہش ہے کہ میں اپنی حیات میں اپنے اس گھر کو موجودہ ویلیو کے مطابق اپنے تمام گھر والوں میں تقسیم کردوں اور میں نے اپنے دونوں بیٹوں اور بیٹیوں کو 2020ء میں کچھ رقم دی تھی ،ان کا جو حصہ بنتا ہے اس میں سے جو رقم ادا کی ہے اس کو نکال کر باقی جو بھی جس کا حصہ بنتا ہے وہ ان کو ادا کر دیا جائےاور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرا چھوٹا بیٹا محمد جنید عارف کو اس تمام امور کاذمہ دار بناؤں کہ وہ پنے بھائی اور بہنوں کو ان کے حصے کی ادائیگی کرے گا میں اور اہلیہ اس کے ساتھ اس کے گھر میں رہائش پذیر رہیں گے اور محمد جنید عارف تمام امور اور اپنے بہن بھائیوں کو ادائیگی کامکمل ذمہ دار ہوگا۔اس سلسلے میں قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کی مکمل راہنمائی کی ضرورت ہے اور اس کی شریعت کے مطابق تقسیم کے بارے میں میری راہنمائی کی جائے جس کا میں اور باقی تمام فریق مکمل طور پر احترام اور اللہ اور اس کے رسول کےحکم کومن و عن تسلیم کریں گے ،آپ کے تعاون کاشکریہ۔ فقط والسلام
ملحوظہ:سائل سے زبانی استفسار سے یہ معلوم ہوا کہ سائل نے مذکورہ مکان کی رقم جنید عارف کے ذمہ لگائی کہ ہر ایک بھائی بہن کو یہ (جنید ) اپنی طرف سے رقم ادا کرے گا جس کے بعد مکان اس کے نام الاٹ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی ہر قسم کی مملوکہ جائیداد کا مالک ومختار ہوتا ہےاور ہر قسم کا تصرف کرنے کا حق دار ہوتا ، کسی وراث کے لیے جائز نہیں کہ اس کو اس کی اپنی ملکیت میں تصرف کرنے سے منع کرے یا والد ین کی زندگی میں اولاد اپنے ماں باپ سے جائیداد کا مطالبہ کرے تاہم اگر صاحبِ جائیداد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد دلی خوشی ورضا مندی سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور یہ شرعاًہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے اور وراثت کے احکام اس پر جاری نہیں ہوتے ۔
اس لیے تمام اولاد(مذکر و مؤنث) کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری افضل اور منصفانہ طرزِ عمل ہے، البتہ والد کے لیے کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر مثلاً کسی کی شرافت و فرمانبرداری ودین داری ، غربت یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دینے کی بھی اجازت ہےاور اصول ِمیراث کے مطابق بچوں کو بچیوں سے دوگنا بھی دیا جا سکتا ہےاور اولاد کو ہبہ کرتے ہوئے جائیداد میں سے کچھ حصہ اپنے اور بیوی کے لیے بھی رکھ لینا بہتر ہے تا کہ بعد میں کسی کے دست نگر نہ ہوں ،نیز بیوی کے لیے کم از کم آٹھواں حصہ ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں آپ نے جو ایک بیٹے کے ذمہ دوسرے بہن بھائیوں کے حصہ کی ادائیگیاں لگائی ہیں اس کی وضاحت کے بعد اس معاملے کا حاصل یہ ہے کہ دراصل آپ یہ مکان جنید کو فروخت کر رہے ہیں اور اس سے یہ وعدہ لے رہے ہیں کہ اپنے حصے کی رقم مکان کی موجودہ مجموعی مالیت سے منہا کرنے کے بعد بقیہ بچ جانے والی رقم دیگر بہن بھائیوں کو برابر برابرادا کرنے کا پابند ہوگا ۔
چونکہ یہ معاملہ بہت سی پیچیدگیوں کا باعث ہے مثلا: جنید تو مکان کا مالک بن گیا لیکن دیگر ورثاء اپنے حصے کی ادائیگیوں کے منتظر ہیں ،اس کی تاخیر کی وجہ سے جب مکان کی قیمت بڑھے گی تو یہ باعثِ نزاع بن سکتی ہے اور غیر معمولی تاخیر کے نتیجہ میں سب کی حق تلفی کا امکان ہے ،پھر بھی اگر آپ ان تمام باتوں کا سدِ باب کرتے ہوئے مذکورہ معاملہ کر لیں تو اگرچہ یہ معاملہ شرعاً درست ہے ،لیکن ہماری رائے میں بہتر یہ ہے کہ آپ بذاتِ خود اپنی زندگی میں اس مکان کو یا تو حصے کر کے ہر ایک حصہ اولاد کو اپنے تمام تصرفات سے خالی کر کے مالکانہ حقوق کے ساتھ ان کے قبضہ میں دے دیں یا پھر مذکورہ مکان کے علاوہ دیگر اموال اپنی زندگی میں تقسیم کرلیں اور اور مکان میں خود رہیں اور آپ کی وفات کے بعد یہ مکان آپ کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو ۔
مصنف ابن أبي شيبة (6/ 42)
عن النضر بن أنس ، قال : نحلني أبي نصف داره ، فقال أبو بردة : إن سرك أن تجوز ذلك فاقبضه ، فإن عمر بن الخطاب قضى في الأنحال أن ما قبض منه ، فهو جائز ، وما لم يقبض منه ، فهو ميراث
( فتح الباری ،کتاب الہبۃ وفضلہا ، باب الاشہاد فی الہبۃ : 530/5)
وذهب الجمهور إلى أن التسوية مستحبة فإن فضل بعضا صح وكره۔
الدر المختار (5/ 696)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم
رد المحتار (5/ 696)
(قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي
(الفتاوی الہندیة: ۴/ ۳۹۱، کتاب الہبة، الباب السادس)
لو وہب شئیاً لأولادہ فی الصحة، وأراد تفضیل البعض علی البعض ، عن أبی حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالی: لابأس بہ اذا کان التفضیل لزیادة فضل فی الدین ، وان کانا سواء، یکرہ، وروی المعلی عن أبی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی أنہ لابأس نہ اذا لم یقصد بہ الاضرار ، وان قصد بہ الاضرار ، سوی بینہم وہو المختار۔۔۔ ولو کانا لولد مشتغلاً بالعلم لا بالکسب ، فلا بأس بأن یفضلہ علی غیرہ۔
بدائع الصنائع 🙁 6،ص:264)
“للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف، شاء.”
رد المحتار (5/ 696)
وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا
الفتاوى الهندية (3/ 8) دار الفكر
وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع۔