بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میں نےتمہیں آزاد کیا تین مرتبہ کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

كیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی میں جھگڑا ہوا، بیوی نے کہا قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کرو ، خاوندنےتین مرتبہ یہ جملہ کہا (میں نے تمہیں آزادکیا ) جدا جدا کہا ، تو اس کیا حکم ہے ؟

جواب

ذکر کردہ صورت میں بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور حرمت مغلظہ ثابت ہوکر نکا ح ختم ہوگیا ، اس کے بعد دونوں کا اکٹھا رہنا جائز نہیں ، عدتِ طلاق گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ
فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره (سورة البقرة:٢٣٠)
 أحكام القرآن للجصاص: (2 / 83)
قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور
رد المحتار(3 / 299)سعید
فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال ” رهاكردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس