بخاری شریف کی ان دو روایات سے قادیانی اپنا مسلمان ہونا ثابت کرتے ہیں تو بعض لوگ ان کے دھوکے اور د جل و تلبیس کا شکار ہو کر متاع ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں تو اپنی روایات سے مرزائی تلبیسات کا تدارک چونکہ پاکستان میں مخلوط ماحول ہے تو اس لیے فریقین کے مابین ایسی صورت حال پیش آتی رہتی ہے۔
وہ روایات یہ ہیں ( بخاری شریف ج اول باب فضل استقبال القبلۃ کتاب الصلوۃ )
روایت نمبر 1 : عمرو بن عباس ، ابن مهدی ، منصور بن سعد ، میمون بن سیاه حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رایت ہے کہ رسول اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہماری طرح نماز پڑھی ہمارے قبلے کی جانب منہ کیا اور ہمار اذ بیحہ کھا یا وہ مسلمان ہے ، جس کے لیے اللہ تعالی کی ضمانت ہے ، پس اللہ کی ضمانت کو ضائع نہ کرنا ۔
روایت نمبر 2 : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں اگر یہ کہہ لیا ، ہمارے جیسی نماز پڑھی ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذ بیحہ کھایا تو ہم پر ان کا خون اور مال حرام ہو گیا ہے ، مگر حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ لے گا ۔ علی بن عبد اللہ خالد بن حارث ، حُمید میمون بن سیاه یہ حضرت انس بن مالک کی خدمت میں عرض گزار ہوئے ، اے ابو حمزہ بندے کے خون اور مال کو کیا چیز حرام کرتی ہے ، جس نے گواہی دی کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا اور ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمار اذبیحہ کھایا تو وہ مسلمان ہے ۔ اُس کا وہی حق ہے جو ایک مسلمان کا ہے اور اس کی وہی ذمہ داری ہے جو ایک مسلمان کی ہے ۔ ابن مریم یحیٰ بن ایوب ، حمید ، حضرت انس نے نبی کریم ﷺسے روایت کی
سوال میں مذکور محوّلہ احادیث میں بیان کی گئیں یہ تین باتیں ان اہم علامات ِاسلام میں سے ہیں جو دوسرے ادیان سے مذہب ِاسلام کو واضح اور جدا کرتی ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ تین باتیں اس بات کی علامت ہیں کہ ان کو کرنے والا شخص ضروریات ِدین کا قائل ہے ۔جب تک آدمی میں اس کے خلاف کوئی بات ثابت نہ ہو اس وقت تک ان علامتوں کو اس کے ضروریات ِدین کا قائل ہونے کی علامت سمجھا جائے گا اور اس پر مسلمان کے احکام جاری ہونگے ۔ اور جب کوئی شخص اپنےاندران علامتوں کے پائےجانےکےباوجود ضروریات ِدین میں سے کسی بات کا انکار کرے تو وہ شخص کافر سمجھاجائے گا نہ کہ مسلمان ۔لہٰذامعلوم ہوا کہ کسی شخص میں محض علامت کے پائے جانےکی بناءاس کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔بلکہ ان علامات کے باوجود ضروریات دین میں سے کسی کے انکار کی وجہ سے کفر بھی لازم آسکتا ہے ۔اور قادیانی ان سب باتوں کے پائے جانے کے باوجود جب ختمِ نبوت کے منکر ہیں مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں تو صرف قبلہ کا ایک ہونا یا ذبیحہ کا کھانا ان کے اسلام کی دلیل نہیں ،وہ بااجماع امت کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
الصحيح المسلم(1\52) دار إحياء التراث العربي – بيروت
عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، ويؤمنوا بي، وبما جئت به، فإذا فعلوا ذلك، عصموا مني دماءهم، وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله»۔
رد المحتار(1/ 561) سعيد
إذ لا خلاف في كفر المخالف في ضروريات الإسلام من حدوث العالم وحشر الأجساد ونفي العلم بالجزئيات وإن كان من أهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 187, 188) رشيدية
أن أمور الناس محمولة على الظاهر دون باطنها، فمن أظهر شعائر الدين أجريت عليه أحكام أهله ما لم يظهر منه خلاف ذلك، فإذا دخل رجل غريب في بلد من بلاد المسلمين بدين أو مذهب في الباطن غير أنه عليه زي المسلمين حمل على ظاهر أمره على أنه مسلم حتى يظهر خلاف ذلك. وفيه: ما يدل على تعظيم شان القبلة، وهي من فرائض الصلاة، والصلاة أعظم قربات الدين، ومن ترك القبلة متعمدا فلا صلاة له، ومن لا صلاة له فلا دين له…… لأنا نقول: الغرض منه بيان تحقيق القول بالفعل وتأكيد أمره، فكأنه قال: إذا قالوها وحققوا معناها بموافقة الفعل لها فتكون محرمة. وأما تخصيص هذه الثلاثة من بين سائر الأركان وواجبات الدين فلكونها أظهرها وأعظمها وأسرعها علما بها، إذ في اليوم الأول من الملاقاة مع الشخص يعلم صلاته وطعامه، غالبا، بخلاف نحو الصوم فإنه لا يظهر الامتياز بيننا وبينهم به
فيض الباري(2\39,38) الحرمين الشريفين كوئتة
ووجهه :أن هذا الأمور أمارات جلیة یحصل بها التمایز بین الإسلام وبين سائر الأدیان،فإنهم ينتزهون عن أکل ذبیحتنا،ولا یصلون صلاتنا،ولا یستقبلون قبلتنا فصارت تلك کالشعار لأھل الإسلام إلا انه من توجد فیه تلك الأمور یحکم علیه بالإسلام، وإن أنکر سائر الدین ومرق منه مروق السهم من الرمیة
ولا أري أنك شاك في تکفیر من فعل جمیع ذٰلك، ثم أنکر بکون أصغر سورۃ من القرآن قرآنا، فکیف بمن ادعي النبوّۃ، وأهان الأنبیاء عليهم الصلاۃ و السلام،وسبهم سبّاً یقشعر منه الجلود،وحرف الدین کله واشتري به ثمنا قلیلا، واستهزأ بالأحادیث، وإخبار الأنبیاء عليهم الصلاۃ و السلام ومعجزاتهم،إلي غیر ذٰلك من موجبات الکفر التي لو تحققت واحدۃ منها في رجل لکفت لتکفیرہ، فکیف بمن جمع هذه الإنواع أجمع؟ وأعنی به: المرزا غلام احمد القادیانی، الذي بغٰي وطغٰي، ثم ذهب یدعي النبوۃ، فتردد في تکفیرہ بعض من لم یمارس کتب الفقه، وجعل یحتاط فیه، ولم یدر أن التشجع فی إکفار المسلم والتاخر فی عدم إکفار الکافر سواء فی الوزر
مجموعة رسائل الكشميري(رسالة : إكفار الملحدين 3\17،10) إدارة القرآن كراتشي
ولا ينجو من الكفر إلا من أكفر ذلك الملحد بلا تلعثم وتردد……….۔
إذ لا خلاف في كفر المخالف في ضروريات الإسلام وإن كان من أهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير
فتاوٰی محمودیہ(2/115)جامعہ فاروقیہ کراچی/امدادالمفتین(1/428)ادارۃ المعارف کراچی
انعام الباری(3/130،129) مکتبۃ الحراء