بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ہندوغیرمسلم کی تعمیر کےلیے چندہ دے اس کو استعمال کرنا

سوال

ہندو نے مسجد کی تعمیر رقم دی ہے۔ کیا استعمال کرسکتے ہیں اس کے مستند ہونے کی راہ نمائی فرمادیں؟

جواب

ہندو/غیرمسلم نے اگر اپنی خوشی سے مسجد کی تعمیر کےلیے چندہ دیا تو اسے تعمیر مسجد  کےلیے استعمال کرسکتے ہیں ۔بشرطیکہ اس سے چندہ لینے کی صورت میں کسی فتنے کا یا اس کے مسجد کے معاملات میں دخیل ہونے ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
البحر الرائق (5/316) رشیدیة
 وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم۔
رد المحتار على الدر المختار (4/ 341)
 أن شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس۔
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 731)
فليس بشرط فلو وقف الذمي على ولده ونسله وجعل آخره للمساكين جاز ۔۔۔ إذا وقف على مسجد بيت المقدس فإنه صحيح لأنه قربة عندنا وعندهم۔
کفایت المفتی (10/293)
فتاویٰ محمودیہ (15/ 137) جامعہ فاروقیہ کراچی۔

اگر کوئی غیرمسلم مسجد میں روپیہ وغیرہ دے اور بنیت ِ حصول ثواب یعنی اس کو عبادت سمجھ کر تو شرعاً اس کا مسجد میں لینا درست ہے ۔ اور اگرکوئی مانع ہو مثلاً : اس روپیہ کی وجہ سے کسی فتنہ کا اندیشہ ہو یا اہل اسلام پر احسان سمجھ کر دے یا احسان کا اظہار کرے وغیرہ وغیرہ تو امر آخر ہے۔ اس لیے بہتر صورت یہ ہے کہ وہ روپیہ کسی مسلم کو دے دے اور پھروہ مقروض یا دیگر مسلم اس روپیہ کو مسجد میں دے دے او راس روپیہ کو تعمیر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس